
(ویب ڈیسک)عالمی منڈی میں جمعرات کو خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کار ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات پر نظر رکھے ہوئے ہیں،امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان پانچ ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 37 سینٹ (0.5 فیصد) کمی کے بعد 79.08 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 53 سینٹ (0.7 فیصد) گر کر 74.69 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
ماہر اقتصادیات یوکی تاکاشیما کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی اطلاعات کے بعد مارکیٹ میں فروخت کا رجحان بڑھا، ان کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتیں اب تقریباً اسی سطح پر واپس آ گئی ہیں جہاں 17 جون کو امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدہ طے پایا تھا، جبکہ سرمایہ کار اب حتمی معاہدے کے منتظر ہیں۔
رائٹرز کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز سے خلیج میں داخل ہونے والے بحری جہازوں پر نگرانی یا کنٹرول کا کردار دیا جا سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے امریکی حکومت کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، امریکی حکام اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ وہ دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ پر ایران کے مکمل کنٹرول سے اتفاق نہیں کریں گے۔
دوسری جانب ایران نے خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی سرزمین پر دوبارہ امریکی حملہ ہوا تو خطے میں توانائی کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ادھر ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے ساحلی شہر ینبع کے قریب بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں سعودی آئل ٹینکروں پر میزائل حملے کیے ہیں، تاہم سعودی حکام نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔
ماہرین کے مطابق حوثیوں کے حملوں کے خدشات کے باعث بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کی آمدورفت سے متعلق خطرات برقرار ہیں، جس کی وجہ سے تیل کی منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
دریں اثنا، امریکی محکمہ توانائی کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکہ میں خام تیل کے ذخائر 25 لاکھ بیرل بڑھ کر 407 ملین بیرل ہو گئے، جبکہ ماہرین کو 15 لاکھ بیرل کمی کی توقع تھی، اس اضافے کی وجہ ریفائنریوں کی جانب سے خام تیل کی پراسیسنگ میں معمولی کمی اور درآمدات میں اضافہ بتایا گیا ہے۔






