6

کراچی میں بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبہ: لاٹ 2 کا ٹھیکا منسوخ کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار

(24نیوز) ڈسپیوٹ بورڈ  ے بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کے لاٹ 2 (Lot 2) کا ٹھیکا منسوخ کرنے کا فیصلہ کالعدم اور غیر قانونی قرار دے دیا ہے، ڈسپیوٹ بورڈ نے اپنے فیصلے میں منصوبے میں تاخیر کا ذمہ دار پراجیکٹ مینجمنٹ ٹیم اور متعلقہ کنسلٹنٹس کو ٹھہرایا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق  لاٹ 2 کے ٹھیکے دار نے پراجیکٹ کا معاہدہ منسوخ کیے جانے کے فیصلے کو معاہدے کے تحت قائم کردہ ڈسپیوٹ بورڈ کے سامنے چیلنج کیا تھا،ڈسپیوٹ بورڈ نے 28 جولائی کو 3 میں سے 2 کی اکثریت سے ٹھیکے دار کے حق میں فیصلہ سنایا۔ 

ڈسپیوٹ بورڈ نے واضح کیا کہ بی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ 2 کا ٹھیکا  جلد بازی میں منسوخ کیا گیا  جو کہ بنیادی معاہدے کے یکسر منافی، کالعدم اور غیر قانونی ہے، فیصلے میں مزید کہا گیا کہ معاہدے کی رو سے صرف وقت پر کام مکمل نہ ہونے کی بنیاد پر ٹھیکا ختم نہیں کیا جا سکتا۔ 

 ڈسپیوٹ بورڈ نے اپنے فیصلے میں پراجیکٹ مینجمنٹ ٹیم ‘ٹرانس کراچی’  کی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ادارہ اتنا بڑا اور حساس منصوبہ چلانے کی فنی اور انتظامی اہلیت نہیں رکھتا،بورڈ نے نشاندہی کی کہ بی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ 2 کے ڈیزائن میں بار بار تبدیلیاں کی گئیں جس کی وجہ سے تعمیری کام میں مسلسل تاخیر اور سست روی پیش آئی۔
منصوبے کے 16 میں سے صرف 1 اسٹیشن کا ریوائزڈ (ترمیم شدہ) ڈیزائن نومبر 2025 میں فراہم کیا گیا،باقی 15  سٹیشنوں کا ریوائز ڈیزائن ٹھیکا ختم کیے جانے کے وقت تک ٹھیکے دار کو فراہم ہی نہیں کیا گیا تھا۔ 
 بورڈ نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ڈیزائن میں بار بار کی جانے والی تبدیلیوں اور مسائل کے باوجود کنسلٹنٹ کو اس کا جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا، جبکہ تمام تر ملبہ کام کی سست روی پر ٹھیکے دار پر ڈال دیا گیا۔ 
ڈسپیوٹ بورڈ کے اس فیصلے کے خلاف 28 دن کے اندر اعتراض جمع کروایا جا سکتا ہے،اگر 28 دنوں کے اندر کوئی اعتراض جمع نہیں کرایا جاتا تو دونوں فریقین   قانوناً اس فیصلے پر عمل کرنے کے پابند ہوں گے۔
اگر اعتراض درج کرایا جاتا ہے تو اس کے 56 دن بعد آربیٹریشن (ثالثی) کا باقاعدہ قانونی عمل شروع ہو جائے گا۔

ْیہ بھی پڑھیں :  آج پاکستان کی تاریخ کا اہم دن ہے، عطا اللہ تارڑ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں