
(24 نیوز)شام کی ایک عدالت نے سابق صدر بشار الاسد، ان کے چھوٹے بھائی ماہر الاسد اور اُن کے دور کے سکیورٹی عہدیدار عاطف نجیب کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں سزائے موت سنا دی ہے۔
امریکی پریس کی رپورٹ کے مطابق بشار الاسد اور ان کے ساتھیوں کے خلاف یہ فیصلہ منگل کے روز سنایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مقدمہ شام میں گزشتہ 14 سال سے جاری رہنے والے تنازع سے متعلق ہے، جس میں تقریباً 5 لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
عدالت نے بشار الاسد اور ان کے بھائی ماہر الاسد کو ان کی غیر موجودگی میں سزا سنائی۔
دونوں دسمبر 2014 میں باغی جنگجوؤں کے دمشق میں داخل ہونے کے بعد شام سے فرار ہو کر روس چلے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:امریکا میں غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف مہم، ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد ویزے منسوخ
اسی مقدمے میں بشار الاسد دور کے سکیورٹی عہدیدار عاطف نجیب کو بھی سزائے موت دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
نجیب پر الزام تھا کہ انہوں نے 2011 میں جنوبی صوبے درعا میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کارروائی کی قیادت کی تھی۔
یہی کارروائی بعد میں بڑے پیمانے پر عوامی بغاوت اور پھر خانہ جنگی میں تبدیل ہوگئی۔
عدالت میں عاطف نجیب کو سخت سکیورٹی کے درمیان قیدیوں کے لباس میں ایک چھوٹے پنجرے کے اندر کھڑا کیا گیا تھا۔
اس دوران جج نے ان کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔
عاطف نجیب شام کی فوج میں بریگیڈیئر جنرل کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔
2011 میں وہ بشار الاسد کے دورِ حکومت میں درعا صوبے کی سیاسی سکیورٹی برانچ کے سربراہ تھے۔
بعد میں انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا اور وہ بشار الاسد حکومت کے ان اعلیٰ عہدیداروں میں شامل ہوئے تھے جنہیں عدالت میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔
شام میں 2011 میں شروع ہونے والی حکومت مخالف تحریک نے چند ہی عرصے میں ایک طویل اور خونریز جنگ کی شکل اختیار کرلی تھی۔
اس تنازع کے دوران لاکھوں افراد ہلاک یا زخمی ہوئے جبکہ کروڑوں افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوگئے تھے۔






