7

ایران ,امریکہ جنگ ایران کی معمول کی سفارت کاری جارحانہ انداز اختیار کر گئی

(انور عباس )ایران ,امریکہ جنگ، ایران کی معمول کی سفارت کاری جارحانہ انداز اختیار کر گئی، سفارتی ذرائع کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو کامیاب نشانہ بنانے کے بعد ایرانی سفارت کاری جارحانہ ہوئی،جنگی اہداف کے حصول میں ناکامی نے امریکی جارحانہ سفارت کاری کو اوسط امریکی سفارت کاری میں تبدیل کر دیا۔

مشرق وسطیٰ میں ایران کے امریکی اڈوں کو کامیابی سے نشانہ بنانے نے بھی امریکی سفارت کاری کو متاثر کیا ہے، ایران کو علم ہے کہ امریکہ کے پاس ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے بہت کم مؤثر ذرائع بچے ہیں۔

 سفارتی ذرائع کے مطابق امریکی تھاڈ، پیٹریاٹ و دیگر دفاعی ساز و سامان کے سٹاکس خاصی حد تک خالی ہو چکے ہیں،موجودہ صورتحال میں ایرانی بخوبی سمجھتے ہیں کہ وہ اس صورتحال میں بااثر اور ڈرائیونگ سیٹ پر ہیں۔

آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لئے ایران نے 6 مطالبات پر مشتمل  فہرست پیش کی ہے،ٹرمپ کا 17 جون کی مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر معاہدہ نہ کرنا ایک بڑی سیاسی غلطی تھی،17 جون کی مفاہمتی یادداشت کی نسبت موجودہ ایرانی مطالبات میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔

 سفارتی ذرائع کے مطابق 17 جون کی مفاہمتی یادداشت کا بنیادی مقصد آبنائے کو کھولنا تھا،اس کے بدلے امریکہ نے اتفاق کیا تھا کہ صرف تیل پر عائد پابندیاں اٹھائی جائیں تاکہ ایران عالمی منڈیوں میں اپنا تیل فروخت کر سکے،17 جون کی یادداشت میں جنگ بندی بھی شامل تھی، جس میں لبنان بھی شامل تھا۔

 سفارتی ذرائع کے مطابق  دیگر اہم معاملات کو بعد کے مرحلے کے لیے مؤخر کر دیا گیا تھا، اس وقت ایران نے مجموعی اقتصادی پابندیوں، ہرجانے/معاوضے اورمنجمد اثاثوں کا معاملہ نہیں اٹھایا تھا،ان اہم معاشی معاملات پر 60 روزہ مدت کے دوران مذاکرات ہونا طے پایا تھا، یہ تمام امور 17 جون کی مفاہمتی یادداشت میں واضح طور پر درج تھے۔

اس وقت ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ بھی مؤخر کر دیا گیا تھا، موجودہ صورتحال میں ایران نے تینوں بڑے معاشی معاملات ایرانی شرائط کے مطابق پہلے حل کرنے کا کہا ہے،موجودہ صورتحال میں ایران آبنائے ہرمز کھولنے سے پہلے ہرجانے/معاوضے کا معاملہ،مجموعی پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد اثاثوں کا معاملہ حل کرنا چاہتا ہے،موجودہ مطالبات میں ایرانی جوہری پروگرام و افزردہ شدہ یورینیم کا تقریباً کوئی ذکر نہیں ہے۔

 سفارتی ذرائع کے مطابق اس وقت آبنائے کو کھلوانے کے لیے امریکہ کو ان بڑے ایرانی معاشی معاملات پر متعدد رعایتیں دینا ہوں گی جبکہ جوہری معاملہ ابتدا ہی میں حل کرنے کی شرط بھی موجود نہیں ہوگی،28 فروری اور اس سے پہلے امریکی توجہ بنیادی طور پر ایران کے جوہری معاملے پر مذاکرات تک محدود تھی۔

سفارتی ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایرانی جوہری و افزردہ یورینیم کا معاملہ مذاکرات کے ایجنڈے سے غائب ہو چکا ہے، 28 فروری اور اس سے پہلے۔ایران کے لیے  تمام فائدہ مند معاشی معاملات مذاکرات کی میز پر نہیں تھے،موجودہ صورتحال میں ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری کے عہدے میں اچانک تبدیلی بھی اہمیت کی حامل ہے۔

باقر ذولقدر کی جگہ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محسن رضائی کی تقرری بھی مستقبل میں جارحانہ ایرانی سفارت کاری و فیصلوں کا عندیہ ہے، محسن رضائی مذاکرات کے دوران امریکہ پر عسکری دباو برقرار رکھنے کی کوشیش کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں :آزاد کشمیر انتخابات کاتیسرامرحلہ،پیپلز پارٹی 2، ن لیگ ایک نشست پر کامیاب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں