
(امانت گشکوری )وفاقی آئینی عدالت نے ٹی ایم اے ایبٹ آباد کے متوفی ملازم بشیر حسین کی بیوہ عابدہ پروین کی اپیل منظور کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو بیوہ کو تمام قانونی و ریٹائرمنٹ فوائد، فیملی پنشن اور بقایا جات فوری ادا کرنے کا حکم دےدیا ۔
وفاقی آئینی عدالت کےجسٹس سید ارشد حسین شاہ نے تحریری فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہاگیاہے کہ بیوہ کو تمام قانونی و ریٹائرمنٹ فوائد اور بقایا جات فوری ادا کیے جائیں،متوفی بشیر حسین کو یکم اکتوبر 2011 کو میونسپل ایڈمنسٹریشن ایبٹ آباد میں فائر مین تعینات کیا گیاتھا،بھرتی کے وقت ملازم کی عمر 51 سال تھی،مجاز اتھارٹی نے عمر کی حد میں 6 سال کی قانونی رعایت دی تھی۔
فیصلے کے مطابق بشیر حسین 6 نومبر 2020 کو چوکیدار کے عہدے سے ریٹائر ہوئے،پنشن کیلئے کوالیفائنگ سروس میں 10 ماہ 25 دن کی کمی پر سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے کمی معاف کرنے کی منظوری دی،مجاز اتھارٹی کی منظوری کے باوجود آڈٹ ڈیپارٹمنٹ نے اعتراض لگا کر پنشن کا کیس واپس بھیج دیا،4 جون 2021 کو ملازم بشیر حسین کی وفات کے بعد ان کی بیوہ نے فیملی پنشن کیلئے قانونی چارہ جوئی کی، پنشن کوئی رعایت، عطیہ یا خیرات نہیں بلکہ ریٹائرڈ ملازم کا قانونی، آئینی اور بنیادی حق ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں سکول نہ جانے والے بچوں کی گنتی کا فیصلہ
فیصلے میں مزیدکہاگیاہے کہ پنشن ملازم کی سالہا سال کی وفاداری، محنت اور خدمت کے بعد حاصل کردہ محفوظ شدہ معاوضہ ہے،پنشن آئین کے تحت بنیادی حقوق، انسانی وقار اور زندگی کی بقا سے منسلک ہے،قواعد کی دو تشریحات ممکن ہوں تو وہی تشریح اپنائی جائے گی جو ملازم کے حق اور فائدے میں ہو۔






