
(24نیوز) کراچی میں نوجوان میر رضا کےقتل کے المناک واقعہ کی تفتیش تو ہو نہیں رہی البتہ مقتول میر رضا کے بزنس پارٹنر احمد بھردے کی سٹی کورٹ سے ضمانت آسانی سے ہو گئی۔
تفصیلات کے مطابق نوجوان میر رضا کے الم ناک قتل کیس میں عدالت کے مطابق کوئی تفتیش نہیں ہو رہی البتہ آج یہ ہوا کہ مقتول کے بزنس پارٹنر اور واقعے کے مشتبہ فرد احمد بھردے نے عدالت میں پیش ہو کر اپنی عبوری ضمانت کروا لی۔
ملزم نے آج عدالت میں پیش ہوکر اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت کو آگاہ کیا کہ پولیس اسے “ہراساں” کر رہی ہے اس لئے عبوری ضمانت لی جائے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے سامنے سماعت کے دوران ملزم احمد بھردے کے وکیل خالد ممتاز ایڈوکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کوپولیس ہراساں کررہی تھی جسکی وجہ سے عبوری ضمانت حاصل کی۔ سیشن عدالت نے ملزم محمد احمد کی ایک لاکھ روپےمیں عبوری ضمانت منظور کی۔
خالد ممتاز ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ احمد اس کیس میں عدالتی کارروائی کا حصہ بننا چاہتا ہے اس لئے آج پیش ہوا ہے، عدالت نے ملزم کی عبوری ضمانت اور حاضری کو عدالتی کارروائی کا حصہ بنا دیا۔
وکیل کا کہنا تھا کہ میرے موکل کو ہراساں کرنے کے لئے تھانے بلانے کے بجائے کرائم سین پر بلایا گیا، سابق تفتیشی افسر کی جانب سے ہراساں کیا گیا۔ یہ دلچسپ امر ہے کہ سابق تفتیشی تھانے دار پو اس لئے معطل کیا گیا کہ اس نے تفتیش ناقص کی اور مقتول کے والد پر قتل کو خودکشی ماننے کے لئے دباؤ ڈالا تھا۔
مدعی مقدمہ کے وکیل جبران ناصر نے موقف میں کہا کہ پولیس کسی کو ہراساں نہیں کر رہی بلکہ تفتیش کے سلسلے میں اب تک 35 سے زائد گواہان اور افراد کو طلب کیا جا چکا ہے۔
مقتول کے والد کے وکیل نے عبوری ضمانت کی مخالفت کی
جبران ناصر نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر اس مرحلے پر ضمانت دی گئی تو کیس سے جڑے دیگر افراد بھی ضمانتیں کروا لیں گے۔
سماعت کے دوران عدالت نے ملزم کے وکیل سے استفسار کیا: “جب آپ اس کیس میں باضابطہ ملزم نہیں تھے تو پھر ضمانت کیوں لی؟ آپ سوچ لیں کہ اس ضمانت کی درخواست کو آگے چلانا چاہتے ہیں یا واپس لیں گے؟”
عدالت نے ملزم احمد بھردے کو واضح ہدایت کی کہ ضمانت ہو یا نہ ہو، وہ تفتیش میں شامل ہونے کے پابند ہیں اور تفتیش جاری رہنے تک شہر سے باہر نہیں جا سکتے۔
اس پر احمد بھردے نے بیان دیا کہ جب بھی پولیس طلب کرتی ہے، وہ تھانے جانے کے لیے تیار ہیں۔
عدالت نے ملزم کی عبوری ضمانت اور حاضری کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 24 اگست تک ملتوی کر دی۔
عدالت نے ملزم کے وکیل کو آئندہ سماعت پر یہ حتمی فیصلہ کرنے کی ہدایت کی ہے کہ وہ ضمانت واپس لیں گے یا اسے آگے چلائیں گے۔






