
(24نیوز) قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے نیشنل فوڈسیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے آلو کی کاشت کے رقبہ کا تصدیق شدہ ڈیٹا طلب کر لیا۔ آلو کی کاشت کا رقبہ سوا دو گنا بڑھنے کے دعوے سامنے آنے کے بعد قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی نے تصدیق شدہ ڈیٹا طلب کیا۔
قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے نیشنل فوڈسیکیورٹی اینڈ ریسرچ کااجلاس سید طارق حسین کی زیر صدارت میں منعقد ہوا۔اجلاس مین فوڈ سکیورٹی کی وزارت نے کمیٹی کو بتایا کہ سٹینڈنگ کمیٹی کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے 7 جولائی 2026 کو روس نے 101 کمپنیوں کو رجسٹر کیا ہے تاکہ درآمدی پابندیاں ختم ہونے کے بعد آلو کی برآمدات میں سہولت دی جا سکے۔
وزارت نے توقع ظاہر کی کہ اس سے آئندہ سیزن میں آلو کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا اور کسان مالی نقصان سے بچ جائیں گے۔کمیٹی نے وزارت کو ہدایت دی کہ روس کی منڈی میں موجود سرپلس آلو کا فوری برآمد کا بندوبست کیا جائے تاکہ کسانوں کو مناسب قیمت ملے،بریفنگ میں بتایا گیا کہ آلو کی کاشت کا رقبہ 2015-16 میں 177,700 ہیکٹر سے بڑھ کر 2025-26 میں 462,160 ہیکٹر ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آج رات امریکہ ایران کے بجلی پلانٹس پر حملے کرے گا، ٹرمپ نے خرگ پر قبضہ کرنے کا پلان بھی بتادیا
کمیٹی نے وزارت کو تصدیق شدہ ڈیٹا فراہم کرنے کی ہدایت کی۔قومی غذائی تحفظ اور ادارہ جاتی رابطہ بہتر بنانے کے لیے کمیٹی نے وفاقی سطح پر ایک مرکزی بین الوزارتی اور بین الصوبائی کوآرڈینیشن سیل کے قیام کی سفارش کی۔
وزارت کے سیکرٹری نے بتایا کہ اس کا پی سی ون فائنل ہو چکا ہے اور 3 ماہ میں عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔ کمیٹی نے مقررہ مدت کے بعد پیش رفت کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔کمیٹی نے اگلے اجلاس میں آلو کے بحران پر دوبارہ غور اور وزیراعظم کے ایگریکلچر ماڈرنائزیشن انیشی ایٹو پر جامع بریفنگ طلب کی-
ملتان مینگو گروورز ایسوسی ایشن کے نائب صدر نےقومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں کہا کہ مصنوعی مٹھاس والے مشروبات سے بچوں میں قبل از وقت ذیابیطس اور لبلبے کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ کمیٹی نے انہیں اپنی تجاویز پیش کرنے اور پاکستان کے معیاروں سے متعلق ادارے کے نمائندہ کو بھی ٹیکنیکل کمیٹی میں ماہر کے طور پر مدعو کرنے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردوں کو ہر جگہ نشانہ بنائیں گے، مسلح افواج کے ترجمان کا اعلان






