(امانت گشکوری) سپریم کورٹ نے ریاستی اداروں کے خلاف پوسٹیں کرنے پر ہونے والی سزاؤں کی معطلی کیلئے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کر دیں۔
ایمان مزاری اور ہادی چٹھی کی درخواستوں کی سماعت جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بنچ 19 اگست کو کرے گا ۔
سپریم کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے۔
پس منظر
اسلام آباد کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ نے 24 جنوری 2026ء کو پی ٹی آئی کی سابق وزیر شیریں مزاری کی بیتی اور مشہور وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی چٹھہ کو ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف سخت قابل اعتراض سوشل میڈیا پوسٹس (ٹویٹس) کے کیس میں 17، 17 سال قید اور 3 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
جج افضل مجوکا کے فیصلے کے مطابق تمام سزائیں ایک ساتھ (concurrently) چلیں گی، جس کی وجہ سے انہیں عملاً 10 سال جیل میں رہنا ہو گا۔

یہ مقدمہ اگست 2025ء میں درج کیا گیا تھا، جس میں الزام تھا کہ ایمان مزاری نے 2021ء سے 2025ء کے درمیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر ریاستی اداروں کے خلاف تضحیک آمیز مواد شیئر کیا، جبکہ ہادی علی چٹھہ نے ان پوسٹس کو ری پوسٹ (شئیر) کر کے ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف بے بنیاد الزامات کو پھیلانے میں معاونت کی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ایمان مزاری کی ان پوسٹس کا مقصد ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانا اور مبینہ طور پر کالعدم ریاست مخالف (خوارجی اور فتنہ الہندوستان)تنظیموں کے پروپیگنڈا کو فروغ دینا تھا۔






