بلوچستان کے 32 اضلاع میں سات روزہ انسداد پولیو مہم پیر 21 ستمبر 2026 سے شروع ہوگی، جس کے دوران صوبے بھر میں پانچ سال سے کم عمر تقریباً 23 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) بلوچستان کے کوآرڈینیٹر انعام الحق نے کہا ہے کہ انسداد پولیو مہم کے لیے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور بچوں کو پولیو ویکسین پلانے کے لیے مجموعی طور پر 9,193 ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں ہیں انہوں نے بتایا کہ مہم میں 621 فکسڈ سائٹ ٹیمیں بھی حصہ لیں گی، جبکہ 392 ٹرانزٹ پوائنٹ ٹیمیں صوبے کے اہم آمدورفت اور نقل و حرکت کے مقامات پر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گی۔سات روزہ مہم کے دوران صوبے کے 32 اضلاع میں انسداد پولیو سرگرمیاں جاری رہیں گی، جن میں بارکھان، چاغی، ڈیرہ بگٹی نارتھ، ڈیرہ بگٹی ساؤتھ، دکی، گوادر، حب، جعفرآباد، جھل مگسی، قلات، کیچ، خضدار، قلعہ سیف اللہ، لسبیلہ، لورالائی، موسیٰ خیل، نصیرآباد، نوشکی، سبی، شیرانی، صحبت پور، اوستہ محمد، وڈھ، ژوب، زیارت، کوئٹہ ایسٹ، کوئٹہ ویسٹ، قلعہ عبداللہ، مستونگ، بارشور، پشین اور چمن شامل ہیں۔ماحولیاتی نمونوں کے مطابق اگست کے دوران بلوچستان میں پولیو وائرس کے دو مثبت ماحولیاتی نمونے سامنے آئے، جن میں ایک چمن اور دوسرا ژوب سے رپورٹ ہوا۔ای او سی کوآرڈینیٹر انعام الحق نے بتایا کہ ماحولیاتی نمونوں میں پایا جانے والا وائرس بلوچستان کا مقامی وائرس نہیں بلکہ اس کا تعلق پڑوسی صوبے اور افغانستان سے ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیو وائرس اب بھی ماحول میں موجود ہے اور اس خطرے کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا۔ جب تک وائرس ماحول میں موجود رہے گا، بچوں میں پولیو سے متاثر ہونے کا خطرہ برقرار رہے گا، اس لیے ہر انسداد پولیو مہم انتہائی اہم ہےانعام الحق نے کہا کہ پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور بچوں کو اس خطرناک مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے بار بار ویکسینیشن ضروری ہے۔ای او سی کوآرڈینیٹر نے والدین اور بچوں کی نگہداشت کرنے والے افراد پر زور دیا کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلائیں۔انہوں نے سول سوسائٹی، اساتذہ اور مذہبی رہنماؤں سے بھی اپیل کی کہ وہ عوام میں شعور اجاگر کرنے اور والدین کو اپنے بچوں کی پولیو ویکسینیشن یقینی بنانے کی ترغیب دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔
3






