
(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ نے قصور پولیس کی تفتیش پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے ڈی پی او قصور آفتاب پھلروان کو 20 جولائی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ عدالت نے ڈی پی او سے متعلقہ اے ایس آئی کے طرزِ عمل اور مقدمے کی تفتیش سے متعلق وضاحت طلب کرتے ہوئے تحریری حکم جاری کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس طارق ندیم نے ملزم وحید سمیت دیگر کی عبوری درخواستِ ضمانت پر سماعت کے بعد تحریری حکم جاری کیا۔تحریری حکم کے مطابق درخواست گزاروں کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ریاست کی جانب سے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل اور متعلقہ اے ایس آئی منور ریکارڈ سمیت عدالت میں حاضر ہوئے۔ شکایت کنندہ کو نوٹس کی تعمیل کے باوجود عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ عدالت میں موجود اے ایس آئی منور نے خود یہ مؤقف اختیار کیا کہ جس جگہ پر درخواست گزاروں کے خلاف مبینہ تجاوز کا الزام لگایا گیا، وہ جگہ انہی کے قبضے میں تھی۔ اس کے باوجود جب عدالت نے استفسار کیا کہ ایسی صورت میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 452 کا اطلاق کیسے بنتا ہے تو اے ایس آئی اپنے مؤقف پر اصرار کرتا رہا، تاہم وہ عدالت کو مطمئن نہ کر سکا۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ بظاہر تفتیش میں قانونی تقاضوں کو نظر انداز کیا گیا ہے، لہٰذا ڈی پی او قصور آفتاب پھلروان ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہو کر متعلقہ اے ایس آئی کے طرزِ عمل اور مقدمے کی تفتیش کی وضاحت کریں۔لاہور ہائیکورٹ نے ڈی پی او قصور آفتاب پھلروان کو 20 جولائی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے ملزمان کی عبوری ضمانت میں بھی اسی تاریخ تک توسیع کر دی۔
یہ بھی پڑھیں:سلمان خان نے سوناکشی اور ظہیر کے تعلقات پر کیا پیشگوئی کی تھی؟ جوڑے کا دلچسپ انکشاف






