3

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

(24نیوز)عالمی منڈی میں جمعہ کے روز  خام تیل کی قیمتیں معمولی کمی کے باوجود ہفتہ وار نمایاں اضافے کی جانب گامزن رہیں، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے آئل ٹینکروں پر حملوں اور قازقستان کی تیل کی برآمدات میں عارضی رکاوٹ نے عالمی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا۔

 عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت100.12 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی، مئی کے بعد پہلی باربرینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر گئی،ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 92 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی، اماراتی مربن آئل107.30 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا۔

مارکیٹ میں تیزی کی بڑی وجہ حوثیوں کا یہ دعویٰ تھا کہ انہوں نے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے، سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ ان حملوں کے باعث باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ بند ہو سکتی ہے، جو آبنائے ہرمز کے بعد دنیا میں تیل کی ترسیل کا دوسرا اہم ترین راستہ سمجھی جاتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ آئندہ ایسے کسی بھی حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی جائے گی، دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے، جبکہ اطلاعات کے مطابق ایران نے امریکہ کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کے بعد باب المندب بند کرنے کے لیے حوثیوں پر دباؤ ڈالا ہے۔

ادھر قازقستان کی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ مشتبہ یوکرینی ڈرون حملوں کے باعث ملک کی اہم برآمدی تنصیب عارضی طور پر بند ہونے کے بعد تیل کی پیداوار میں کمی کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم (CPC) نے ٹرمینل پر حملوں کے باعث قازقستان سے خام تیل وصول کرنا عارضی طور پر روک دیا ہے، یہ راستہ عالمی یومیہ خام تیل کی تقریباً 2 فیصد سپلائی سنبھالتا ہے،ایک ذریعے نے بتایا کہ قازقستان کے سب سے بڑے آئل فیلڈ کی پیداوار نصف سے بھی کم کر دی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور قازقستان کی سپلائی میں رکاوٹ نے عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کو مزید گہرا کر دیا ہے، جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں پر اوپر کی جانب دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں