
(ویب ڈیسک) اگلے ماہ سورج گرہن ہو گا تو آسمان پر ایک نایاب نظارہ دیکھنے کو ملےگا۔
امریکہ کے خلائی تحقیق کے ادارے ‘ناسا’ کنے بتایا ہے کہ 12 اگست کو مکمل سورج گرہن ہو گا لیکن اس نایاب مظہر س کو چند ممالک میں ہی دیکھا جا سکے گا۔ مکمل سورج گرہن کبھی کبھی ہی ہوتا ہے اور یہ تقریباً ہمیشہ گلوب کے کچھ حصوں میں ہی مکمل دکھائی دیتا ہے۔ گزشتہ مرتبہ مکمل سورج گرہن دو سال پہلے ہوا تھا۔
پاکستان میں مکمل سورج گرہن نظر نہیں آئے گا
12 اگست 2026 کا مکمل سورج گرہن پاکستان میں نظر نہیں آئے گا کیونکہ سورج گرہن کے وقت پاکستان میں رات ہو گی۔ ۔
پاکستان میں اس وقت کیا وقت ہوگا؟
گرہن کا عظیم ترین لمحہ (Greatest Eclipse) 17:47 UTC پر ہوگا اس وقت پاکستان میں وقت رات دس بج کر سینتالیس منٹ ہو گا۔
پاکستان معیاری وقت کے مطابق گرہن کا آغاز (جزوی مرحلہ، دنیا میں) رات 8:35 بجے ہو گا۔
مکمل گرہن کا آغاز: رات 9:59 بجے ہو گا۔
سورج گرہن کاعظیم ترین مرحلہ: رات 10:47 بجے شروع ہو گا اور مکمل گرہن کا اختتام رات 11:35 بجے ہو گا۔ سورج گرہن کا مکمل اختتام رات 12:59 بجے (13 اگست) ہو گا۔ یعنی صبح ایک بجے سب کچھ نارمل ہو جائے گا۔
چونکہ اس سورج گرہن کے آغاز کے وقت پاکستان میں سورج غروب ہوئے کئی گھنٹے گزر چکے ہوں گے، اس لیے یہاں سے اسے دیکھا نہیں جا سکے گا۔
پاکستان میں آخری مکمل سورج گرہن کب نظر آیا تھا؟
چھ سال پہلے (2020) پاکستان میں مکمل سورج گرہن نہیں آیا تھا۔ لیکن یہ مکمل کے قریب ترین تھا۔
21 جون 2020 کو پاکستان میں ایک حلقہ نما (Annular) سورج نظر آیا تھا، یہ مکمل گرہن نہیں تھا۔ اس واقعہ میں سورج کو چاند نے اس طرح ڈھانپ لیا تھا کہ تاریک ، سیاہ چاند کے گرد آگ کا حلقہ (Ring of Fire) بنا تھا، سورج کے صرف موہوم سے کنارے چاند کے ارد گرد نظر آ رہے تھے۔ پاکستان کے کئی علاقوں میں یہ نمایاں طور پر دیکھا گیا کیونکہ یہ عیں دوپہر کا وقت تھا اور جون کا تیسرا ہفتہ ہونے کے سبب آسمان بالکل صاف تھا۔
پاکستان میں بہت سے لوگوں کو وہ “مکمل” گرہن محسوس ہوتا ہے، حالانکہ فلکیاتی لحاظ سے وہ مکمل نہیں تھا۔
پاکستان میں آخری مکمل سورج گرہن اس سے بہت پہلے آیا تھا۔ حالیہ دہائیوں میں پاکستان کے کسی بھی شہری نے مکمل سورج گرہن نہیں دیکھا۔ 2020 والا گرہن حلقہ نما تھا، مکمل نہیں تھا۔
21 جون 2020 والے گرہن کے دوران پاکستان میں خاصی دلچسپ فضا تھی۔ کورونا وبا بھی جاری تھی، اور بہت سے لوگوں نے اپنے گھروں کی چھتوں سے، اور کھلی جگہوں سے ویلڈنگ گلاس یا خصوصی سولر فلٹرز کے ذریعے اسے دیکھا تھا۔ بہت سے نڈر لوگوں نے کھلی آنکھ کے ساتھ اس منطر ہو دیکھا تھا۔ لاہور اور بعض دوسرے علاقوں میں “رِنگ آف فائر” کا منظر واقعی شاندار تھا، اس لیے آج بھی بہت سے لوگوں کو وہ مکمل گرہن جیسا یاد ہے، حالانکہ فلکیاتی اعتبار سے وہ Annular Solar Eclipse تھا، Total Solar Eclipse نہیں۔
اب کن ممالک میں مکمل گرہن نظر آئے گا؟
اس مرتبہ مکمل سورج گرہن کی مکمل پٹی گرین لینڈ، آئس لینڈ، سپین، پرتگال کے ایک حصے اور شمالی روس سے گزرے گی۔مکمل سورج گرہن صرف گرین لینڈ، آئس لینڈ، سپین کے شمالی علاقوں اور پرتگال کے ایک کونے میں ہی دیکھا جا سکے گا۔
نسلوں میں پہلی مرتبہ!
سپین میں 121 سال بعد مکمل سورج گرہن دیکھا جا سکے گا۔ کہا جا رہا ہے کہ اس سورج گرہن کا سپین کا نظارہ سب سے زیادہ منفرد ہوگا کیونکہ وہاں یہ گرہن عین سورج غروب ہونے کے وقت ہو گا، ماہرین فلکیاتاسے ایک ’مسحور کن‘ منظر قرار دے رہے ہیں حالانکہ ان تمام مارہوں نے اپنی زندگی میں پہلے یہ منظر کبھی نہیں دیکھا، ان سے پہلے والی نسل نے بھی ایسا گرہن کبھی نہیں دیکھا۔
یورپ اور افریقہ میں جزوی گرہن
یورپ کے بیشتر ممالک اور شمالی افریقہ کے متعدد خطوں کے مکین جزوی سورج گرہن کا نظارہ کر سکیں گے۔
روس میں ایک ہی دن صبح شام سورج گرہن
روس کو اس حوالے سے خاص انفرادیت یہ حاصل ہوگی، جہاں سورج طلوع ہونے اور غروب دونوں اوقات میں جزوی گرہن ہو گا۔ روس میں یہ بہت غیر معمولی واقعہ روس کے غیر معمولی رقبہ کی وجہ سے ہو گا۔
روس کے بہت دور دراز علاقے ’طیمیر جزیرہ نما‘ میں گرہن کا آغاز سورج طلوع ہوتے ہی ہوگا، روس کے ہی دوسرے سرے پر واقع بہت دور دراز علاقہ میں یہ سورج گرہن سورج غروب ہونے کے وقت دکھائی دے گا۔
سورج غروب ہونے کے وقت گرہن ایک نادر مظہر ہے، جو کئی برسوں بعد دیکھنے میں آتا ہے۔
12 اگست کو جو سرج گرہن ہونے جا رہا ہے اس کی انفرادیت اس کا غروب آفتاب کے وقت سے کچھ پہلے اور غروب آفتاب کے عین دوران ہونا ہے۔
ہمیں توقع رکھنا چاہئے کہ سپین اور دوسرے ملکوں میں یہ نادر منظر دیکھنے والے اس منظر کی ویڈیوگرافی کریں گے، سٹل فوٹو گرافی بھی ہو گی۔ ہم رئیل ٹائم میں اس منظر کو لائیو سٹریم اور ویڈیوز کے ذریعہ تو بہر حال دیکھ ہی لیں گے۔
یہ بھی پڑھیئے: گجرات جیل کی بیرکوں میں بارش کا پانی بھر گیا۔ قیدیوں کو دوسر ی جیلوں میں بھیجناپڑگیا






