2

کرکٹرز کی مدد سے سٹہ بازی ہو رہی ہے کاروباری خاتون کے انکشاف سے کہرام مچ گیا

(ویب ڈیسک) بھارتی   ریئلٹی ٹیلی ویژن شو ’’ لاک اپ ‘‘ کے سیزن 2 میں  کرکٹ جوئے کی گھر کی بھیدی نے لنکا ڈھا دی۔ کرکٹ کے کھلاڑی جوے میں کیسے آلہ کار بنتے ہیں، سب کچھ بتا دیا۔

مشہور برطانوی-ہندوستانی کاروباری، سابق بیوٹی کوئین، اور ریئلٹی ٹی وی کی شخصیت  پامیلا سیرینا نے آن کیمرہ ایک بڑا انکشاف کرتے ہوئےتہلکہ مچا دیا ۔ پامیلا  سیرینا نے بتایا ہے کہ  وہ کس طرح کرکٹرز سے ملی اور انسائیڈ ٹپس کی مدد سے لندن کے بکیز کے ساتھ لاکھوں کا سٹہ کھیلتی تھیں۔اتنا بڑا راز کھلنے پر کرکٹ کے حلقوں میں کہرام مچ گیا ہے۔ 

’’ لاک اپ‘‘ ایک بھارتی ریئلٹی ٹیلی ویژن مقابلہ ہے جس میں مشہور شخصیت “قیدی” کو جیل کے تھیم والے سیٹ میں بند کیا گیا ہے۔ اس شو کی میزبانی فرح خان اور رتیش دیش مکھ کر رہے ہیں اور تمام شو نیٹ فلکس پر نشر ہوتے ہیں۔بھارتی ‘ لاک اپ 2’ میں پامیلا سیرینا نے خود کو بے گھر ہونے سے بچانے کے لیے ایک خوفناک راز سے پردہ اٹھایا ہے!

پامیلا سیرینا نے آن کیمرہ اعتراف کیا کہ کس طرح وہ کرکٹرز سے ملی انسائیڈ ٹپس کی مدد سے لندن کے بکیز کے ساتھ لاکھوں کا سٹہ کھیلتی تھیں۔ریئلٹی شو ‘ لاک اپ 2’ ان دنوں ناظرین کے درمیان زبردست بحث کا موضوع بنا ہوا ہے، جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ کنٹیسٹنٹس کے ایسے ایسے راز سامنے آ رہے ہیں کہ لوگ حیران رہ گئے ہیں۔ حال ہی میں شو کی کنٹیسٹنٹ پامیلا سیرینا نے ایلیمینیشن کی تلوار سے خود کو بچانے کے لیے ایک ایسا حیران کن راز فاش کیا، جس نے نہ صرف جیل میں بند باقی گھر والوں کو سکتے میں ڈال دیا بلکہ پورے کرکٹ حلقے میں ہلچل مچا دی۔
بھارتی   ریئلٹی ٹیلی ویژن شو ‘ لاک اپ 2’ کے حالیہ ایپی سوڈ میں پامیلا سیرینا نے ایلیمینیشن سے خود کو بچانے کیلئے بزر دبایا۔ جیسے ہی انہوں نے بزر دبایا، ٹی وی اسکرین پر ’’میچ فکسنگ‘‘لکھا ہوا آ گیا۔ یہ دیکھ کر جیل میں بند باقی تمام گھر والے اور ناظرین مکمل طور پر حیران رہ گئے۔ اپنا راز سب کے سامنے ظاہر کرنے سے پہلے پامیلا نے صاف کہا کہ یہ ان کا ذاتی راز ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اپنی اس پرانی حرکت پر بالکل بھی فخر نہیں ہے۔ وہ جانتی ہیں کہ انہوں نے جو کیا تھا، وہ طریقہ غلط تھا۔پامیلا سیرینا نے بتایا کہ یہ بات اس وقت کی ہے جب وہ اپنی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ طالب علمی کے دنوں میں انہیں پیسوں کی ضرورت تھی اور اسی دوران انہیں سٹہ بازی کا یہ آسان راستہ نظر آیا تھا۔

  یہ بھی پڑھیں: مکمل سورج گرہن، پاکستان میں نظر نہیں آئے گا، لیکن ہم کیسے اسے دیکھ سکتے ہیں؟  

پامیلا ن سیرینا نے یہ بھی  انکشاف کیا کہ ان کا ایک دوست تھا جو براہِ راست کرکٹرز کے بہت قریب تھا۔ اس دوست کے ذریعے انہیں میچوں کی اندرونی معلومات، یعنی کون سی ٹیم جیتے گی اور کون سا کھلاڑی کتنا اسکور بنائے گا، یہ سب پہلے ہی معلوم ہو جاتا تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ وہ اس وقت لندن میں تھیں، جہاں سٹہ لگانا قانونی سمجھا جاتا ہے۔ اپنے دوست سے ملی اندرونی معلومات کی بنیاد پر انہوں نے بکیز کے پاس جا کر میچوں پر داؤ لگانا شروع کر دیا۔ پامیلا نے اعتراف کیا کہ پہلی ہی بار میں ان کا داؤ درست ثابت ہوا اور انہیں اچھا منافع ہوا۔ اس کے بعد وہ ہر بار نئی ٹپ کا انتظار کرنے لگیں۔

اس آسان طریقے سے انہوں نے اس وقت سٹے میں بہت سارے پیسے کمائے تھے۔پامیلا نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایک طالب علم کے طور پر اتنے زیادہ پیسے کمانا انہیں بہت سنسنی خیز اور دلچسپ لگتا تھا۔لیکن آج پیچھے مڑ کر دیکھنے پر انہیں احساس ہوتا ہے کہ پیسہ کمانے کا وہ طریقہ درست نہیں تھا۔انہوں نے بتایا کہ یہ سلسلہ اس وقت رکا جب معلومات فراہم کرنے والے لوگ یا تو پکڑے گئے یا پھر یہ پورا نظام ہی بند ہو گیا۔ پامیلا نے اعتراف کیا کہ اس عمر میں معلومات ہونے کی وجہ سے انہوں نے اس کا استعمال کیا، لیکن اب وہ اسے اپنی بہت بڑی غلطی مانتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرکوں پر بسیں گھوم رہی ہیں، بسوں سے کشمیریوں کو خریدا نہیں جا سکتا، کشمیری ووٹ پیپلز پارٹی کو دیں گے؛شرجیل میمن 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں