
سماجی، ثقافتی اور تہذیبی ارتقا کبھی بھی کسی فرد، ریاست یا فاتح قوم کے مکمل اختیار میں نہیں ہوتا، انسانی معاشرے ایسا زندہ اور متحرک وجود رکھتے ہیں جو بیک وقت معاشی، سیاسی، مذہبی، جغرافیائی، نفسیاتی اور فکری عوامل کے باہمی تال میل سے تشکیل پاتے ہیں ۔ ان میں سے کوئی عامل مستقل، خودمختار یا حتمی نہیں ہوتا بلکہ ہر عامل خود دوسرے عوامل سے اثر لیکر مسلسل اپنی ہیت بدلتا رہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ تہذیب کا سفر کسی سیدھی لکیر پر نہیں چلتا بلکہ شعور اور لاشعور، ارادے اور حادثے، جبر اور اختیار کے درمیان ایک مسلسل جدلیاتی حرکت کی طرح جھولتا رہتا ہے۔ اگرچہ ہر عمل وراثت اور ماحول کا نتیجہ ہوتا ہے مگر اہل جبر انکساری کے ساتھ اس محاسبہ میں اپنے وجود کو شمار نہیں کرتے اور وہ یہی فرض کر لیتے ہیں کہ زندگی خارجی طاقتوں کا منفعل نتیجہ ہے، علی ہذالقیاس، ہم کل کو اجزاء میں تحلیل کرتے ہیں اور اجزاء کو نئے مرکبات میں دوبارہ متحد کرتے ہیں ، ہم مشاہدہ میں خیالات کو الگ الگ اور استدلال میں دوبارہ جوڑتے ہیں، ہرچند کہ ہم اپنے آخری نصب العین کا کامیابی سے اظہار کر سکتے ہیں لیکن پھر بھی ہمارے سوچنے کا عمل ہمارے کنٹرول میں نہیں ہوتا۔
سترھویں صدی کے عظیم فلسفی باروخ اسپینوزا نے اسی حقیقت کو ایک نہایت گہری تمثیل کے ذریعے بیان کیا تھا، اس کے مطابق اگر ہوا میں اچھالا گیا پتھر شعور رکھتا تو وہ بھی یہ گمان کرتا کہ وہ اپنی مرضی سے محوِ پرواز ہے، حالانکہ اس کی حرکت ان قوتوں کے تابع ہے جن سے وہ خود بے خبر ہے، انسانی معاشروں کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ قومیں اکثر سمجھتی ہیں کہ وہ اپنی تاریخ اپنی مرضی سے لکھ رہی ہیں، جبکہ حقیقت میں ان کی تشکیل ان گنت تاریخی، معاشی، مذہبی ، تہذیبی اور فطری قوتوں کے باہمی تعامل کے پیچیدہ نظام کے ذریعے متشکل ہوتی ہے۔
چودھویں صدی کے عظیم مسلم مفکر ابن خلدون نے اپنی شہرہ آفاق کتاب المقدمہ میں اسی حقیقت کو عصبیت (Social Cohesion) کے نظریے کے ذریعے بیان کیا، ان کے نزدیک کوئی بھی قوم محض عسکری قوت کے بل پر ہمیشہ حکمران نہیں رہ سکتی، فاتح قوم ابتدا میں اپنی اجتماعی قوت کے باعث غالب آتی ہے لیکن جیسے جیسے وہ مفتوح قوم کے تمدن، آسائشوں اور طرزِ زندگی میں جذب ہوتی ہے، اس کی ابتدائی عصبیت کمزور پڑنے لگتی ہے، نتیجتاً فاتح اور مفتوح کے درمیان ایک نئی تہذیب جنم لیتی ہے، جس میں دونوں کے عناصر شامل ہوتے ہیں، اس اعتبار سے ابن خلدون شاید دنیا کے پہلے مفکر ہیں جنہوں نے یہ واضح کیا کہ تاریخ صرف جنگوں کی نہیں بلکہ تہذیبوں کے اختلاط کی بھی آئینہ دار ہوتی ہے۔
اسی تصور کو بیسویں صدی کے معروف مؤرخ آرنلڈ ٹائن بی نے اپنے نظریۂ Challenge and Response میں مزید وسعت دی، ٹائن بی کے مطابق تہذیبیں صرف فتوحات سے نہیں بنتیں بلکہ وہ بیرونی چیلنجوں کا تخلیقی جواب دیتے ہوئے ارتقا کرتی ہیں، کسی بیرونی طاقت کی آمد ایک چیلنج ضرور پیدا کرتی ہے لیکن اس کے جواب میں مقامی تہذیب نئے ادارے، نئے تصورات، نئی زبانیں اور نئی ثقافتی شکلیں پیدا کرتی ہے، یوں ہر تہذیبی تصادم بالآخر ایک نئی تہذیبی تشکیل پر منتج ہوتا ہے۔
ہندوستان اس تاریخی اصول کی سب سے کلاسیکی مثال ہے،دراوڑ، آریہ، یونانی، ساکا، ہن، ترک، افغان اور مغل مختلف ادوار میں اس سرزمین پر آئے، ابتدا میں وہ فاتح تھے مگر چند نسلوں کے بعد وہ خود ہندوستانی تہذیب کا حصہ بن گئے، مغل وسطی ایشیا سے آئے تھے مگر ان کی سلطنت کی شناخت ہندوستانی فن تعمیر، ہندوستانی موسیقی، ہندوستانی لباس اور ہندوستانی جمالیات کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی تھی، تاج محل، فتح پور سیکری، مغل مصوری، مغل دربار میں پروان چڑھنے والی کلاسیکی موسیقی اور اردو زبان اسی تہذیبی امتزاج کی پیداوار ہیں، فارسی کا مشہور مقولہ “ہر کہ در کان نمک رفت، نمک شد” اسی حقیقت کا استعارہ ہے کہ جو نمک کی کان میں داخل ہوا وہ خود بھی نمک بن گیا۔
اسی تناظر میں اگر نوآبادیاتی اور مابعد نوآبادیاتی ادب کا مطالعہ کیا جائے تو بعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ بعض مفکرین استعماری عہد کو محض جبر، استحصال اور ثقافتی تسلط کی یک رخے داستان کے طور پر بیان کرتے ہیں، بلاشبہ استعمار سیاسی اور معاشی غلبے کا ایک تلخ تجربہ تھا لیکن یہ تصور کہ اثر صرف فاتح نے ڈالا اور خود اس پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوا، تاریخی شواہد سے پوری طرح مطابقت نہیں رکھتا۔
برطانوی راج نے ہندوستان کے تعلیمی، قانونی، انتظامی اور ادبی نظام پر گہرے اثرات مرتب کیے، لیکن دوسری طرف خود برطانیہ بھی ہندوستانی تہذیب سے متاثر ہوا۔ سنسکرت کے مطالعے نے یورپی لسانیات میں انقلاب برپا کیا، اوپنشدوں نے شوپنہاور جیسے فلسفی کو متاثر کیا، رالف والڈو ایمرسن اور ہنری ڈیوڈ تھورو نے ہندوستانی فلسفے سے فکری تحریک حاصل کی، شوپنہار تو اپنیشدوں اس قدر مداح تھا کہ انہیں اپنے سرہانے رکھتے تھے ،اس نے کہا کہ میں آزادانہ تحقیق کے ذریعے جس نتیجہ پر پہنچا ہوں ،ہزاروں سال قبل انسانی زندگی کے بارے میں ہندو میتھالوجی نے بھی وہی نتیجہ اخذ کیا تھا ۔ آج یوگا، آیوروید، ہندوستانی کھانے، موسیقی اور روحانی روایات مغربی معاشرے کا حصہ بن چکی ہیں۔ اگر استعمار یک طرفہ تہذیبی غلبہ ہوتا تو یہ سب ممکن نہ ہوتا۔
مابعد نوآبادیاتی مفکر ہومی کے بھابھا نے اپنی معروف تھیوری Hybridity یا “ثقافتی امتزاج” کے ذریعے اسی تصور کو علمی بنیاد فراہم کی ہیں ، ان کے مطابق نوآبادیاتی معاشروں میں نہ تو صرف فاتح کی ثقافت باقی رہتی ہے اور نہ صرف مفتوح کی بلکہ دونوں کے ملاپ سے ایک “تیسری فضا” (Third Space) پیدا ہوتی ہے، جہاں نئی شناختیں، نئی زبانیں اور نئے ادبی اسالیب جنم لیتے ہیں ، اردو زبان اس کی بہترین مثال ہے، جو فارسی، عربی، ترکی اور برصغیر کی مقامی بولیوں کے امتزاج سے وجود میں آئی۔
اسی طرح فرانسیسی مؤرخ فرنان برودیل نے تاریخ کے مطالعے میں Longue Durée کا نظریہ پیش کیا، ان کے مطابق تاریخ کا اصل دھارا بادشاہوں، جنگوں اور سیاسی واقعات سے زیادہ ان گہرے سماجی اور تہذیبی عوامل سے وجود پاتا ہے جو صدیوں پر محیط ہوتے ہیں، حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، سلطنتیں ختم ہو جاتی ہیں، لیکن زبان، ثقافت، خوراک، رہن سہن، مذہبی تصورات اور اجتماعی نفسیات کہیں زیادہ دیرپا ثابت ہوتے ہیں۔ اسی لیے کسی بھی تہذیب کو صرف سیاسی تاریخ سے نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہی اصول قدیم دنیا میں بھی پوری قوت سے دکھائی دیتا ہے، یونان نے مصر اور ایران کو عسکری میدان میں شکست دی، لیکن تہذیبی سطح پر وہ خود مشرق سے گہرے طور پر متاثر ہوا۔ سکندر اعظم کی فتوحات کے بعد اسکندریہ دنیا کا سب سے بڑا علمی مرکز بن گیا، جہاں یونانی، مصری، ایرانی اور یہودی افکار ایک دوسرے میں مدغم ہوئے۔ بعد ازاں عیسائیت، جس کی ابتدا مشرق وسطی میں ہوئی، یونانی فلسفے سے مکالمہ کرتی ہوئی پورے یورپ میں پھیل گئی۔ رومی سلطنت نے سیاسی طور پر مشرق کو فتح کیا، مگر مذہبی اعتبار سے خود مشرق کے ایک دین کو قبول کر بیٹھی،حتی کہ افلاطون کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ دس سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے دوران اس نے مصر اور ہندوستان کے علوم سے استفادہ کیا جو یونانی فلسفہ سے کہیں زیادہ گہرے اور ہومر کے نغمات سے زیادہ دلکش تھے ، یہ واقعات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ عسکری غلبہ ہمیشہ تہذیبی غلبے میں تبدیل نہیں ہوتا۔
اسلامی تاریخ بھی اسی اصول کی تائید کرتی ہے، عربوں نے ایران کو فتح کیا مگر چند ہی صدیوں بعد فارسی زبان اسلامی دنیا کی علمی، ادبی اور انتظامی زبان بن گئی۔ عباسی خلافت کی علمی روایت میں ایرانی علما، فلسفی، اطبا اور ادبا کا کردار فیصلہ کن تھا۔ امام ابو حنیفہ ،امام غزالی، امام فخر الدین رازی، فردوسی، سعدی، حافظ، مولانا رومی اور عمر خیام جیسے نام اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ فاتح اور مفتوح کی تہذیبیں ایک دوسرے میں ضم ہو کر ایک نئی تہذیب کو جنم دیتی ہیں۔
اسی طرح برصغیر کے جدید ادیبوں اور دانشوروں نے صرف مقامی ادبی روایت پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مشرق اور مغرب دونوں کے علمی و فکری سرمائے سے یکساں استفادہ کیا۔ اس امتزاج نے اردو ادب کو نئی فکری وسعت اور جدید ادبی رجحانات فراہم کیے۔ برصغیر کے کئی ممتاز ادیب، جیسے سر سید احمد خان، ن۔م۔ راشد، میراجی، علامہ اقبال، تصدق حسین خالد اور ساقی فاروقی جیسے لوگ مغربی فلسفے، ادب اور جدید علوم سے متاثر ہوئے۔ انہوں نے مغربی مفکرین اور ادبی تحریکوں کا مطالعہ کیا، لیکن ان کی محض تقلید نہیں کی بلکہ ان نظریات کو اپنے معاشرتی، تہذیبی اور ادبی تناظر میں برتا۔ اس فکری تعامل کے نتیجے میں اردو ادب میں نئی اصناف، نئے اسالیب اور جدید موضوعات کو فروغ ملا، جن میں افسانہ، ناول اور جدید نظم نمایاں ہیں۔
خصوصی طور پر علامہ اقبال نے سنسکرت، فارسی اور عربی کے علمی و ادبی ذخیرے سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ گوئٹے اور نطشے جیسے مغربی مفکرین کے افکار کا بھی گہرا مطالعہ کیا۔ انہوں نے ان سے ایسے تصورات اخذ کیے جو انسان کی خودی، عمل، آزادی، تخلیقی قوت اور فکری بیداری سے متعلق تھے، لیکن انہیں اسلامی فکر اور مشرقی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ کرکے ایک نیا فکری نظام تشکیل دیا۔ اسی وجہ سے اقبال کے ہاں نظریاتی فعالیت، قومی بیداری، استعمار کے خلاف مزاحمت اور انقلابی فکر کی نمایاں جھلک ملتی ہے۔
قصہ کوتاہ، برصغیر کے جدید ادیبوں نے مشرقی اور مغربی علوم و افکار کے امتزاج سے اردو ادب کو نئی فکری، فنی اور نظریاتی جہات سے آشنا کیا، جس کے نتیجے میں اردو ادب زیادہ وسیع، متحرک اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتا گیا، مشرق کی جدید شاعری گل و بلبل اور حسن و عشق کے روایتی اور تخیلاتی مضامین تک محدود نہ رہی، بلکہ انسانی دکھوں کے مداوا، سماجی انصاف، مساوات، آزادی، قومی شعور اور سیاسی و اصلاحی تحریکوں کی مؤثر آواز بن کر ابھری، علامہ اقبال، فیض احمد فیض اور احمد فراز جیسے شاعروں نے ادب کو محض جمالیاتی اظہار تک محدود رکھنے کے بجائے اسے مقصدیت، فکری گہرائی اور انسانی مسائل کے شعور سے ہم آہنگ کیا، انہوں نے زندگی کے تلخ، پیچیدہ اور سنجیدہ مسائل کو اپنے دلکش اور مؤثر اسلوبِ بیان کے ذریعے اس انداز سے پیش کیا کہ ان کی شاعری حسنِ فن اور مقصدیت کا حسین امتزاج بن گئی۔
اس تمام بحث کا حاصل یہ ہے کہ تہذیب کو صرف نوآبادیاتی غلبے اور مغلوبیت کے زاویے سے دیکھنا ایک تاریخی سادہ کاری ہے۔ تہذیبیں تلوار سے کم اور مکالمے سے زیادہ بنتی ہیں ، یہ جبریت کی بجائے تعامل سے نمو پاتی ہیں۔ ہر فاتح کچھ مسلط کرتا ہے، لیکن خود بھی بہت کچھ سیکھتا ہے۔ ہر مفتوح کچھ کھوتا ہے لیکن اپنی بہت سی اقدار فاتح کے اندر منتقل بھی کر دیتا ہے، اسی مسلسل جذب و انجذاب نے انسانی تہذیب کو اس کی موجودہ شکل عطا کی ہے۔
اس لیے نوآبادیات کا مطالعہ بھی صرف جبر اور محکومی کی اخلاقی عینک سے نہیں بلکہ ایک پیچیدہ تاریخی اور تہذیبی عمل کے طور پر ہونا چاہیے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ استعمار کے ظلم، معاشی استحصال اور سیاسی جبر سے انکار کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ تاریخ کو اس کی پوری پیچیدگی کے ساتھ گہرائی تک دیکھا جائے۔ تہذیبیں نہ مکمل طور پر غالب اور نہ مکمل طور پر مغلوب ہوتی ہیں بلکہ وہ کہکشاؤں کی مانند ایک دوسرے میں جذب ہو کر نئی صورتیں اختیار کرتی رہتی ہیں۔ یہی تاریخ کا ازلی قانون ہے اور شاید انسانی تہذیب کی بقا کا راز بھی اسی میں پنہاں ہے ۔
امر واقعہ یہ ہے کہ ہمارے عہد کے ادیبوں کو موضوعات کی قلت کا سامنا ہے، چنانچہ وہ چیونٹیوں جیسی استقامت کے ساتھ خوردبینیں سنبھالے نوآبادیاتی نظام کی ستم ظریفیوں کو شمار کرنے کے ایسے محوری سفر میں سرگرداں دکھائی دیتے ہیں جس میں انہیں تعصبات سے مملو مفروضے ایک خاص طرح کی لذت خیال عطا کرتے ہے مگر اس سارے عمل میں ان کا تنقیدی شعور اکثر ایک غیر ہمدردانہ اور یک رُخی زاویۂ نظر کا اسیر بن جاتا ہے حالانکہ صرف کلچر ہی انسان کے لئے تعصب سے نجات کا وسیلہ بنتا ہے۔
عظیم محقق ڈاکٹر جمیل جالبی فرماتے ہیں کہ “نقید” کے معنی محض اعتراض، عیب جوئی یا نقطہ چینی نہیں ہیں، نہ ہی اس کا مقصد کسی شاعر یا ادیب کی اندھی توصیف و تحسین ہے۔ اگر کسی عہد کی شاعرانہ یا ادبی تخلیقات کا مطالعہ مقصود ہو تو تنقید کا بنیادی فریضہ یہ ہے کہ وہ اس عہد کے فن کو اس کے اپنے عہد کے تاریخی، سماجی اور تہذیبی تناظر میں دیکھے اور ساتھ ہی اسے اپنے زمانے کے شعوری افق پر رکھ کر اس طرح پرکھے کہ اس عہد کے ادب نے فکر، احساس، اظہار اور اسلوب کی دنیا میں کیا اضافہ کیا ہے۔”
اس سے بھی بڑھ کر تنقید کا نہایت اہم اور بنیادی صفت یہ ہے کہ وہ ہر عہد کے لیے نظام خیال کی تشکیل نو کرتی رہے، تاریخ کی مختلف لہروں کے زیرِ اثر معاشرے میں جو فکری، سماجی، معاشی اور تہذیبی تغیرات رونما ہوتے ہیں، وہ ثقافت کی ہیئت کو بھی بدل دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان میں فوجی آمریتوں کے طویل ادوار کی جدلیات، افغانستان میں لڑی جانے والی طویل جنگوں اور ریاستی سرپرستی کی حامل فرقہ وارانہ دہشتگردی نے ہماری تہذیب، ثقافت، خوشی و غمی کی رسومات، مذہبی رویّوں اور سماجی شعور پر ایسے گہرے اثرات مرتب کیے کہ جس سے پرانا نظام خیال، ادبی روایات اور معاشرتی رجحانات کمزور ہو کر رفتہ رفتہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے گئے۔ مگر افسوس کہ ہماری ادبی اشرافیہ کابل سے کشمیر ،کوئٹہ سے قندھار، لاہور سے ہرات اور خیبر سے کراچی تک پھیلے جنگ دہشتگردی سے جڑے لاتعداد المیوں کو ادب کا موضوع نہ بنا سکے۔
علی ہذالقیاس ، ایسے حالات میں تنقید کا تقاضا یہ تھا کہ وہ جنگ دہشتگردی کی حرکیات کے تحت اس بکھرتے ہوئے نظام خیال کو نئے سرے سے مرتب کرتی، تاکہ ایک طرف تغیر کے اندر تسلسل برقرار رہتا اور دوسری طرف زندگی کے ہر شعبے میں تخلیقی عمل کی روانی قائم رہتی لیکن جب تنقید اس ذمہ داری سے دست بردار ہو گئی تو نظامِ خیال کی افسردگی پڑنے لگی ۔ سماجی اذہان کا باہمی تعلق منتشر ہونے لگا، اصطلاحیں اپنے معنوی وقار سے محروم ہو جاتے ہیں، ابلاغ غیر واضح اور وہ اقدار جن پر کسی معاشرے کی بنیاد استوار ہوتی ہے، ایک دوسرے سے متصادم ہونے لگیں۔
حقیقت یہ ہے کہ زندگی ہر لمحہ نئے سوالات اور نئے تقاضوں کو جنم دے رہی ہے، مگر خوف اور ابلاغ کی محدودیت ان کا جواب دینے سے قاصر ہے ۔ نتیجتاً ایسے معاشروں کا انسان مستقبل کی تعمیر کے بجائے ماضی کی عظمتوں میں پناہ ڈھونڈنے لگتا ہے۔ وہ اپنے ذہنی جمود اور تخلیقی بانجھ پن کے لیے طرح طرح کے جواز تراشتا ہے، اپنی کم مائیگی کا الزام دوسروں پر عائد کرتا ہے اور گھبرا کر اپنی فکری توانائیاں لاحاصل توجیہات میں صرف کر دیتا ہے۔ یوں وہ نہ کوئی نیا زاویہ فکر پیدا کر پاتا ہے اور نہ ہی کوئی ایسی تخلیق پیش کرنے کے قابل رہتا ہے جو اپنے عہد کی روح سے ہم آہنگ ہو۔
جس طرح ” طربیہ خداوندی” میں دانتے نے کہا تھا کہ ” میرا مطلب ان چیزوں سے ہے جو ان معاملوں میں سب سے اہم ہیں ، جسے جنگ میں دلیری ،عشق کی آگ اور قوت ارادی کا مقصد،اور اگر ہم غور سے دیکھیں تو ممتاز منصفین نے عام بولی میں انہی موضوعات پر طبع آزمائی کی ہے ۔ مثلا دی بورن نے جنگ کے موضوع پر لکھا، آرنات نے محبت کے موضوع پر ، ژیراوت نے نیکی کے موضوع پر لکھا” ہمارے عہد میں ٹیکنالوجی نے جنگ اور زندگی کو اسقدر پیچیدہ بنا دیا ، جس میں بہادری اور ایثار جیسی فضیلتوں کی نئی تفہیم اور اس دور کے المیوں کو متشکل کرنے کے لئے نئی اصلاحات اور واضح اظہار کی راہ میں حائل ہچکچاہٹ کے باعث اس سائنسی عہد کے اجتماعی شعور سے مطابقت پیدا کرنا ادب کے لئے سب سے بڑا چلینج ہے۔






