
(24 نیوز )امریکا کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہیں، ایران نے پاکستان کو آگاہ کردیا۔
عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ جنیوا، دوحہ یا اسلام آباد میں مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے، مذاکرات مفاہمتی یادداشت کے تحت جاری رہنے چاہئیں۔
ایران چاہتا ہے کہ مذاکرات پہلی سطح پر آبنائے ہرمز پر ہوں،دوسرے مرحلے میں ان کے منجمد اثاثوں اور آخری سطح پر جوہری پروگرام پرمذاکرات ہوں۔
ایران نے آبنائے ہرمز میں نئی راہداری کو مسترد کردیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے تھا کہ پاکستان اور قطر سمیت ثالث ممالک ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:مسافروں کیلئے بڑی خبر!سیلاب کے باعث ٹرین سروس معطل
تاہم ایران کی اولین ترجیح حملوں کے دوران اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا ہے۔ایران نے مفاہمتی یادداشت کے تحت 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کا وعدہ پورا کیا۔
مدت کے ختم ہونے سے پہلے ہی امریکا نے مبینہ بحری جہازوں کے واقعات کو جواز بنا کر نئے حملے کر دیئے۔
آسٹریا کے نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران یہ تیسری مرتبہ ہے کہ مذاکرات کے دوران حملے کرکے ایران کی سفارتی کوششوں کو دھوکا دیا گیا۔
مفاہمتی یادداشت کے مطابق امریکا اب تک ایران کے منجمد اثاثے بھی جاری کرنے میں ناکام رہا ہے۔






