
(24 نیوز)پاکستان شوبز انڈسٹری کے سینئر اداکار و لکھاری سید محمد احمد نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری میں متعدد لکھاری مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ڈرامے تحریر کر رہے ہیں جبکہ پروڈیوسرز اسکرپٹس میں اپنی مرضی سے تبدیلیاں کر کے اصل لکھاریوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو متاثر کر رہے ہیں۔
سید محمد احمد نے حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں باصلاحیت لکھاری موجود ہیں تاہم پروڈیوسرز اکثر ریٹنگ اور وائرل مواد کی خاطر ان کی تحریروں میں من مانی تبدیلیاں کر دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے اپنے ایک ڈرامے کی 17 اقساط مکمل ہو چکی تھیں لیکن انہیں 11ویں قسط کے بعد کا تمام مواد حذف کرنے کا کہا گیا۔
مزید پڑھیں:سلمان خان کی بڑی قانونی کامیابی، فلم’’ کالا ہرن‘‘ کا ٹیزر ہٹانے کا حکم
انہوں نے کہا کہ سکرپٹ رائٹرز کو اپنی تحریروں پر مکمل اختیار حاصل نہیں ہوتا اسی لیے انہوں نے خود بھی پروڈیوسرز کو اپنی تحریروں میں تبدیلی کی اجازت دے رکھی تھی کیونکہ اگر بار بار وضاحت کے باوجود بھی ان کی سوچ سمجھ میں نہ آئے تو پھر وہ خود ہی سکرپٹ میں رد و بدل کر لیتے ہیں۔
سید محمد احمد نے دعویٰ کیا کہ آج کل کئی لکھاری مصنوعی ذہانت کی مدد سے ڈرامے لکھ رہے ہیں جس کی وجہ سے مکالمے مقامی زبان، ثقافت اور معاشرتی انداز سے مطابقت نہیں رکھتے، ان کا کہنا تھا کہ ایک معیاری ڈرامہ لکھنے میں انہیں تقریباً 10 سے 11 ماہ لگتے ہیں اس لیے ایک ہی وقت میں کئی ڈرامے تحریر کرنا انسانی طور پر ممکن نہیں۔






