3

ایپل کا آئی فون لینا اب ہوا چٹکی میں ممکن حیران کن پلان متعارف

(24نیوز  ) ایپل نے امریکا میں اپنے پرانے آئی فون اپ گریڈ پروگرام اور آئی فون پیمنٹ کی جگہ نیا ایپل اپ گریڈ پلان متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت صارفین آئی فون، میک، آئی پیڈ اور ایپل واچ کو آسان ماہانہ اقساط پر لیز پر حاصل کرسکیں گے۔

کمپنی کے مطابق یہ نیا پروگرام مالیاتی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی Klarna کے اشتراک سے شروع کیا گیا ہے، صارفین اس سہولت سے ایپل کی ویب سائٹ، ایپل اسٹور ایپ اور کمپنی کے ریٹیل اسٹورز کے ذریعے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

درخواست دینے والے افراد کی اہلیت جانچنے کے لیے Klarna کی جانب سے سافٹ کریڈٹ چیک کیا جائے گا، جس سے صارف کے کریڈٹ اسکور پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔

ایپل کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ بیشتر نئے آئی فون، میک، آئی پیڈ اور ایپل واچ ماڈلز پر لاگو ہوگا، تاہم چند ڈیوائسز اس اسکیم میں شامل نہیں ہیں۔ ان میں آئی فون 16، آئی فون 16 پلس، ایپل واچ ایس ای، میک بک نیو، بیس ماڈل آئی پیڈ (اے16) بیس ماڈل آئی پیڈ اور اسٹوڈیو ڈسپلے شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نئے پروگرام میں ایک اہم تبدیلی یہ بھی کی گئی ہے کہ پہلے کی طرح ایپل کیئر پلس ماہانہ قسط کا حصہ نہیں ہوگا۔ اگر صارف یہ سہولت حاصل کرنا چاہیں تو انہیں اسے الگ سے خریدنا ہوگا۔ البتہ جو صارفین اپنی لیز کی قسطیں ایپل کارڈ کے ذریعے ادا کریں گے، انہیں 3 فیصد روزانہ کیش بیک بھی ملے گا۔

ماہانہ اقساط اور مدت
ایپل کے مطابق مختلف مصنوعات کے لیے لیز کی مدت اور ماہانہ ادائیگی الگ الگ رکھی گئی ہے۔

آئی فون: 12 یا 24 ماہ، ماہانہ ادائیگی 17.99 ڈالر سے شروع۔
ایپل واچ : 12 یا 24 ماہ، 11.99 ڈالر ماہانہ سے آغاز۔
میک : 24 یا 36 ماہ، 24.99 ڈالر ماہانہ سے۔
آئی پیڈ : 24 یا 36 ماہ، 11.99 ڈالر ماہانہ سے۔

معاہدہ مکمل ہونے کے بعد کیا ہوگا؟
لیز کی مدت ختم ہونے پر صارفین کے پاس تین اختیارات ہوں گے، وہ اپنی موجودہ ڈیوائس واپس کر کے نیا ماڈل حاصل کرتے ہوئے نئی لیز شروع کرسکتے ہیں، باقی ماندہ رقم ادا کرکے ڈیوائس مستقل طور پر خرید سکتے ہیں، یا پھر ڈیوائس واپس کرکے منصوبہ ختم کرسکتے ہیں۔

کمپنی کے مطابق اگر مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد صارف کوئی فیصلہ نہ کرے تو معاہدہ خودکار طور پر زیادہ سے زیادہ 6 ماہ کے لیے ماہانہ بنیاد پر جاری رہے گا، اس کے بعد بھی اگر ڈیوائس واپس نہ کی گئی یا خریدی نہ گئی تو ایپل کی جانب سے آخری خریداری فیس وصول کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں :چیئرمین قائمہ کمیٹی مواصلات برہم، موٹروے پولیس کو نکاح نامے چیک نہ کرنے کی ہدایت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں