
( روزینہ علی)این ڈی ایم اے نے 5 اگست تک ملک بھر میں مون سون بارشوں کے نئے سلسلے کا الرٹ جاری کردیا۔
این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر، بلوچستان، پنجاب اور سندھ میں وقفے وقفے سے بارشوں اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا امکان ہے، دریاؤں، برساتی ندی نالوں اور گلیشیائی علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافے سے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان اور پنجاب کے پہاڑی برساتی نالوں میں اچانک سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے،مختلف شہری علاقوں میں سیلاب کا بھی خدشہ ہے۔گلگت بلتستان کے اضلاع ہنزہ، نگر، گلگت، غذر، تانگیر، داریل،کے دریاؤں، ندی نالوں اور گلیشیائی علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافے کا امکان ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق دیامر، گانچھے، شگر، یاسین ، روندو، اسکردو، استور اور گپس یاسین کے دریاؤں، ندی نالوں اور گلیشیائی علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافے کا امکان ہے،خیبر پختونخوا کے چترال، دیر، سوات، شانگلہ اورکوہستان کے مقامی ندی نالوں اور پہاڑی برساتی نالوں میں بھی سیلابی ریلے متوقع ہیں۔مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، نوشہرہ، چارسدہ، مردان،صوابی، بنوں، لکی مروت، کرم، شمالی و جنوبی وزیرستان، ٹانک، ڈی آئی خان، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کوہاٹ، کرک اور ہنگو کے مقامی ندی نالوں اور پہاڑی برساتی نالوں میں سیلابی ریلے متوقع ہیں۔
آزاد جموں و کشمیر میں مظفرآباد، وادی نیلم، باغ، حویلی کے دریاؤں اور ندی نالوں کے بہاؤ میں شدید اضافہ متوقع ہے،اس کے علاوہ پونچھ، سدھنوتی، کوٹلی، بھمبر، ہٹیاں بالا اور میرپور کے دریاؤں اور ندی نالوں کے بہاؤ میں بھی شدید اضافہ متوقع ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان کے ژوب، شیرانی، موسیٰ خیل،لورالائی، ہرنائی، سبی، کوہلو، قلعہ سیف اللہ ،پشین، کوئٹہ، مستونگ، جھل مگسی، نصیر آباد، آواران، لسبیلہ، قلات، خضدار اور دیگر برساتی نالوںمیں اچانک سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے مزیدکہاگیاہے کہ پنجاب میں سیالکوٹ، نارووال، چکوال، گجرات، ڈی جی خان، راجن پور، مری اورگلیات کے پہاڑی اور برساتی نالوں میں پانی کے تیز بہاؤ کا خدشہ ہے، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ،گجرات، سیالکوٹ، نارووال، جہلم، چکوال،سرگودھا، ساہیوال اور شیخوپورہ کے گنجان آباد علاقوں میں سیلابی صورتحال اور نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق سندھ کےشہروں حیدرآباد، سکھر، شہید بینظیر آباد، ٹھٹھہ، بدین، سانگھڑ، خیرپور، میرپور خاص،عمرکوٹ، تھرپارکر، مٹھی، ٹنڈو محمد خان اور ٹنڈو اللہ یار کے شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق دریائے چناب اور اس سے منسلک جہلم، چناب اور راوی کے نالوں میں درمیانے سے بلند درجے کے بہاؤ کا امکان ہے،دریائے جہلم میں منگلا ڈیم کے بالائی علاقوں میں درمیانے درجے کا بہاؤ متوقع ہے،دریائے راوی، دریائے کابل، دریائے سوات، پنجکوڑہ اور دیگر معاون دریاؤں میں کم سے درمیانے درجے کے بہاؤ کا امکان ہے،پیر پنجال سے نکلنے والے سرحدی نالوں میں پانی کی سطح اچانک بلند ہو سکتی ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق بھارتی آبی ذخائر سے پانی کاممکنہ اخراج دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال کا باعث بن سکتا ہے،ڈی جی خان کے پہاڑی برساتی نالوں اور خیبر پختونخوا کی مقامی برساتی گزرگاہوں میں اچانک سیلاب کا خدشہ ہے،شمالی بلوچستان خصوصاً ناری، بولان اور لہڑی میں دریائی نظام میں اچانک سیلاب کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست تک بارشیں;پی ڈی ایم اے نے سیلابی صورتحال سے خبردارکردیا
این ڈی ایم اے کی جانب سے عوام کو ممکنہ طور پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کرتے ہوئے کہاگیاہے کہ متعلقہ ادارے حساس مقامات کی مسلسل نگرانی کریں، ہنگامی ٹیموں کی تیاری اور ممکنہ بند شاہراہوں کی فوری بحالی کے انتظامات بھی یقینی بنائے جائیں،مون سون کے دوران پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے ریلوں اور اچانک آنے والے سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،سفر سے پہلے موسم کی تازہ ترین پیش گوئی اور سڑکوں کی صورتحال ضرور معلوم کریں،اگر شدید بارش یا کسی بھی ممکنہ خطرے کی وارننگ جاری ہو تو غیر ضروری سفر سے گریز کریں،تنگ راہداریوں، خطرناک ڈھلوانوں، دریا کے کناروں یا ایسے مقامات پر ہرگز نہ رکیں جہاں پتھر گرنے یا مٹی کھسکنے کا خطرہ ہو،اگر سڑک یا پہاڑی ڈھلوان پر دراڑیں، گرتے ہوئے پتھر، ملبہ، سڑک پر بہتا ہوا کیچڑ یا غیر معمولی گرجنے کی آواز سنائی دے تو فوراً اس مقام سے دور ہو جائیں اور محفوظ جگہ منتقل ہو جائیں،سیلابی پانی یا تیز بہاؤ کو پیدل یا گاڑی کے ذریعے ہرگز عبور نہ کریں،یاد رکھیں، تیز بہاؤ والا پانی خواہ کم گہرا ہی کیوں نہ دکھائی دے، انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے،وہ انسانوں یا گاڑیوں کو بہا لے جا سکتا ہے،مون سون کے دوران برساتی ندی نالوں کے بہاؤ میں اچانک شدید اضافہ بھی ہو سکتا ہے،ایسے علاقوں میں سیاحتی سرگرمیوں کے دوران محتاط رہیں اور تیز بہاؤ والے پانی کے ریلوں سے دور رہیں،سفر کے دوران اپنے ساتھ پینے کا پانی، خشک خوراک، ٹارچ، ابتدائی طبی امداد کا سامان، پاور بینک اور ہنگامی رابطہ نمبرز ضرور رکھیں۔
انتظامیہ کی جانب سے بند کی گئی سڑکوں پر سفر سے مکمل گریز کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔






