1

کیا یورپ کو تیل کی سپلائی  مکمل بند ہونے والی ہے؟

  (ویب ڈیسک)  بحیرہ اسود میں یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد قازقستان کا اہم تیل برآمدی ٹرمینل ایک بار پھر بند کر دیا گیا، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے  کے مطابق قازقستان کے تیل برآمدی ٹرمینل کو رواں ماہ تیسری مرتبہ بند کیا گیا ہے، یہ اقدام روس کی نووروسیسک بندرگاہ کے قریب دو آئل ٹینکرز کو ڈرون حملوں میں نقصان پہنچنے کے بعد کیا گیا۔

کیسپین پائپ لائن کنسورشیم (CPC) نے بتایا کہ حملے کے بعد ٹرمینل پر خام تیل کی لوڈنگ روک دی گئی۔ کمپنی کے مطابق متاثرہ دو جہازوں میں سے ایک پر آگ بھی لگ گئی۔

قازقستان کی وزارت توانائی نے حملوں کی تصدیق کی، تاہم براہ راست کسی ملک کا نام نہیں لیا۔ دوسری جانب یوکرین کی ڈرون فورسز نے بحیرہ اسود اور بحیرہ آزوف میں روسی ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم حملے کی مخصوص جگہ نہیں بتائی۔

 یہ بھی پڑھیں:ڈیزل ، پٹرول کی قیمتوں میں بڑی کمی؟ حکومت نے  اہم فیصلہ کر لیا!

  CPC پائپ لائن قازقستان کی تقریباً 80 فیصد تیل برآمدات کو سنبھالتی ہے، جس کے باعث اس نظام میں رکاوٹ ملک کے معاشی مفادات کے لیے اہم خطرہ بن سکتی ہے۔

قازقستان دنیا کے بڑے تیل برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس کی زیادہ تر تیل برآمدات یورپ کو جاتی ہیں۔ ملک کے تیل شعبے میں امریکی کمپنیاں شیورون اور ایکسون موبل سمیت کئی بڑے سرمایہ کار بھی شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر CPC نظام میں بار بار رکاوٹیں پیدا ہوتی رہیں تو قازقستان کو تیل کی پیداوار میں عارضی کمی اور متبادل راستوں کے استعمال جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں