
(ویب ڈیسک) ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک نے اپنی کمپنی کے چین بزنس کو الگ کرنے، فروخت کرنے یا بند کرنے سے متعلق میڈیا رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے جعلی خبر قرار دے دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا تھا کہ ٹیسلا کے مشیروں نے چین کے کاروبار کو الگ کرنے، فروخت کرنے یا بند کرنے جیسے ممکنہ آپشنز پر غور کیا ہے، تاہم ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسی بات کبھی زیر بحث ہی نہیں آئی۔
مسک نے رپورٹ کو “انتہائی بے بنیاد خبر” قرار دیتے ہوئے اس کی تردید کی۔
یہ بھی پڑھیں:ڈالر ہی ڈالر۔۔! سعودی عرب سے پاکستان کو خوشخبری مل گئی
رپورٹس کے مطابق ٹیسلا اور ایلون مسک کی دوسری بڑی کمپنی اسپیس ایکس کے ممکنہ انضمام کی قیاس آرائیوں کے باعث ٹیسلا کے چین بزنس کے مستقبل پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے، کیونکہ اسپیس ایکس امریکی دفاعی منصوبوں اور قومی سلامتی سے متعلق پروگرامز سے وابستہ ہے۔
ٹیسلا کی شنگھائی گیگا فیکٹری کمپنی کی سب سے بڑی اور پیداواری صلاحیت رکھنے والی فیکٹری ہے، جہاں سالانہ 9 لاکھ 50 ہزار سے زائد گاڑیاں تیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
یہ فیکٹری یورپ، کینیڈا اور ایشیا پیسیفک خطے کے لیے ٹیسلا کی اہم برآمدی مرکز بھی ہے، جبکہ چین ٹیسلا کی امریکا کے بعد دوسری بڑی مارکیٹ ہے۔
ماہرین کے مطابق چین میں ٹیسلا کو مقامی کمپنیوں خصوصاً بی وائی ڈی جیسے حریفوں سے سخت مقابلے کا سامنا ہے، تاہم شنگھائی پلانٹ اب بھی کمپنی کے عالمی آپریشنز میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔






