7

خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے والا پولیس انکاؤنٹر میں ہلاک، خاتون آغا خان ہسپتال میں زیرعلاج

(عیسیٰ ترین)  سول ہسپتال کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھیکنے کا مجرم پولیس انکاؤنٹر میں مارا گیا۔ تیزاب  سے زخمی خاتون ڈاکٹر کو فوری طور پر کراچی منتقل کر دیا گیا تھا جہاں وہ آغا خان ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ کوئٹہ میں

 کوئٹہ  میں سوال لائنز پولیس سٹیشن کے  ایس ایچ او  جواد حیدر  نے بتایا کہ خاتون ڈاکٹر پر تیزاب سے حملہ کرنے میں ملوث ملزم گرفتاری کی کوشش کے دوران انکاؤنٹر میں مارا گیا۔

 ایس ایچ او سول لائنز پولیس جواد حیدر نے بتایا کہ  مطلوب ملزم فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوا۔

ڈاکٹر ماہ نور ناصر کا علاج

تیزاب پھینکے جانے کے ظلم کا شکار ہونے والی ڈاکٹر ماہ نور ناصر  اپنی فیملی کے ساتھ کراچی پہنچ گئیں۔ ان کو  طبی  امدادکےلیے آغا خان ہسپتال  لے جایا گیا جہاں اس وقت ان کا علاج چل رہا ہے۔

خاتون ڈاکٹر کے سرکاری خرچ سے علاج کیلئے  بلوچستان کی حکومت نے کراچی کے دو نجی اسپتالوں کو مراسلہ ارسال  جاری کیا تھا۔

ہسپتال کے ذرئاع نے بتایا کہ تیزب سے خاتون کی جلد  12 سے 15 فیصد جھلسنے کی اطلاعات ہیں۔  

وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا فوری نوٹس

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے کوئٹہ کے سرکاری ہسپتال میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب کے حملے کا فوری نوٹس لیا تھا۔ ان کی ہدایت پر پولیس نے مفرور ملزم کو تلاش کرنے کے لئے برق رفتار کارروائی کی۔

Caption  شقی القلب ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لئے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی اور فائرنگ کے تبادلہ میں مارا گیا۔ 

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن  کے صدر کی پریس کانفرنس

کوئٹہ کے سول ہسپتال میں خاتون ڈاکتر پر تیزاب سے حملے کے بعد  ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر  ڈاکٹر حئی بلوچ نے پریس کانفرنس کی اور کہا، جس نے تیزاب پھینکا وہ لفٹ آپریٹر اور نجی ملازم ہے۔ 

ڈاکٹر حئی بلوچ نے کہا ہسپتال میں ڈاکٹرز غیر محفوظ ہیں۔ہسپتال میں سیکورٹی نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔

صدر وائی ڈی اے  حئی بلوچ نے کہا،  وائی ڈی اے اپنے ڈاکٹرز کی تحفظ کے لئے ہر حد تک جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر حئی بلوچ  نے الزام لگایا کہ کوئٹہ شہر کے تمام ہسپتالوں میں ایم ایس کے ذریعے کرپشن کا بازار گرم ہے۔ محکمہ صحت تباہی کے دہانے پرہے

ڈاکٹروں کی تنظیم کے رہنما نے مطالبہ کیا کہ خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے والے ملزم کو فوری گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ سیکرٹری صحت ، ایم ایس اور ہسپتال کی سیکورٹی  کے انچارج کو  برطرف کیا جائے۔

ڈاکٹر حئی بلوچ  نے اپنی نیوز کانفرنس مین دھمکی دی کی ڈاکٹر  ایمرجنسی سروسز کے علاوہ تمام سروسز سے بائیکاٹ کر رہے ہیں۔  اگر 12 گھنٹوں میں  ملزم کو گرفتار نہ کیا گیا تو تمام سروسز سے بائیکاٹ کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں