
(24 نیوز)بلوچستان کے شہر اوستہ محمد میں شادی کے صرف 40 دن بعد دلہن شوہر کے ہاتھوں قتل ہوگئی ، مقتولہ کے ہاتھوں، چہرے اور گردن پرتشدد کے نشانات واضح ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اوستہ محمد میں شادی کے محض 40 دن بعد 20 سالہ دلہن کو اس کے شوہر نے بھائیوں کے ساتھ مل کر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مقتولہ کے شوہر کو آلۂ قتل سمیت گرفتار کر لیا ہے، تاہم مقتولہ کا والد بااثر ملزمان کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے بعد انصاف کے حصول کے لیے پریس کلب پہنچ گیا۔
مقتولہ صفیہ کے والد تاجل نے بتایا کہ چند روز قبل ان کی بیٹی کو اس کے شوہر نے اپنے ہی بھائی کے ساتھ “کاری” قرار دے کر قتل کر دیا گیا، صفیہ کے چہرے، ہاتھوں اور گردن پر شدید تشدد کے نشانات واضح ہیں۔
واقعے کے بعد مقتولہ کے قتل کے فوری بعد کی ایک انتہائی دردناک ویڈیو بھی منظرِ عام پر آئی ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مقتولہ کا بوڑھا والد اپنی جوان بیٹی کی لاش سے لپٹ کر “ابا ابا” کہہ کر شدید بین کر رہا ہے اور دھاڑیں مار کر رو رہا ہے۔
مزید پڑھیں:کوئٹہ: نوجوان کو ویگن سے اتار کر قتل کر دیا گیا
مقتولہ کے والد تاجل کا کہنا ہے کہ بیٹی کو بے گناہ قتل کرنے کے بعد اب ملزمان اور ان کے سہولت کار ان پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں کہ کیس کو ختم کیا جائے اور راضی نامہ کیا جائے۔
انہوں نے اعلیٰ حکام سے تحفظ اور انصاف کی اپیل کی “میری بیٹی پر جھوٹا الزام لگا کر اسے شادی کے 40 دن بعد ہی ہم سے چھین لیا گیا۔
اب ہمیں کیس واپس لینے کے لیے ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ حکومت ہمیں انصاف فراہم کرے۔”
دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کی اور مقتولہ کے شوہر کو واردات میں استعمال ہونے والے آلۂ قتل سمیت گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق واقعے کی ایف آئی آر درج کر کے دیگر مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور کیس کی ہر زاویے سے تفتیش جاری ہے۔






