
(ویب ڈیسک) آسٹریلیا میں باسمتی کی روایتی اقسام پر قبضہ جمانے کی بھارتی ادارے کی کوشش ایک ابر پھر ناکام ہو گئی۔ بھارتی ادارے کی باسمتی چاول کو بھارت کی مخصوص پروڈکٹ کا درجہ دلوانے کی درخواست نہ صرف مسترد ہو گئی بلکہ اس معاملہ میں بھارتی ادارہ کو فریق مخالف (پاکستان) کو قانونی کارروائی کے اخراجات ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔
پاکستانی باسمتی کی ایکسپورٹ رکوانے کی مذموم سازش ناکام ہونے کے ساتھ بھارتی ادارہ کو مقدمہ کے اخراجات بھی ادا کرنا پڑ گئے۔
اسلام آباد: باسمتی کے نام پر بھارتی اجارہ داری کی کوشش ناکام ہوگئی، آسٹریلیا میں پاکستان کو بڑی قانونی فتح حاصل ہوگئی۔ اس سے پہلے امریکہ میں ٹیکساس میں بننے والی ایک کمپنی نے باسمتی کی امریکہ کے لمبے چاول کے ساتھ کراس بریڈنگ کر کے بنائی گئی ہائی برڈ قسم کو پیٹنٹ کروا کر اس پیٹنٹ کے زریعہ پاکستان کی روایتی باسمتی کی امریکہ میں ایکسپورٹ کی راہ میں رکاوٹین کھؑڑی کرنے کی کوشش کی تھی جو کامیاب نہیں ہوئی تھی۔
اب یہ خبر آئی ہے کہ آسٹریلوی وفاقی عدالت نے باسمتی لفظ مارک کیس میں بھارتی ادارے اپیڈا کی اپیل خارج کر دی۔
اس سے پہلے بھارتی ادارے اپیڈا نے آسٹریلیا میں باسمتی کے لفظ کو بطور سرٹیفکیشن ٹریڈ مارک رجسٹر کرانے کی درخواست دی تھی، آسٹریلوی رجسٹرار آف ٹریڈ مارکس نے 22 دسمبر 2022 کو بھارتی درخواست مسترد کر دی تھی۔
اب بھارتی ادارہ نے فیڈرل کورٹ آف آسٹریلیا Federal Court of Australia میں بھارت نے پاکستانی باسمتی کے خلاف اپنے GI دعوے کو مضبوط کرنے کی کوشش کی تھی۔ آسٹریلیا میں بھارت نے باسمتی “Basmati” کو انڈین جیوگرافیکل انڈیکیشن Indian Geographical Indication کے طور پر protect کروانے کی کوشش کی، تاکہ آسٹریلوی مارکیٹ میں باسمتی نام کے استعمال پر بھارتی geographical claim مضبوط ہو۔
پاکستان نے اس کی مخالفت کی۔اب آسٹریلیا کی فیڈرل کورٹ نے پاکستانی موقف کے حق میں ایک اہم فیصلہ دیا: عدالت نے بھارتی GI claim کو اس انداز میں قبول نہیں کیا جس سے بھارت کو آسٹریلیا میں باسمتی پر exclusive geographical monopoly مل جاتی۔
یہ فیصلہ پاکستان کے لیے اس لیے اہم ہے کہ عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہی تھا کہ کیا “Basmati” صرف Indian geographical product ہے، یا یہ Indo-Pak subcontinental product ہے جسے پاکستان بھی legitimately استعمال کر سکتا ہے؟
عدالت نے اس معاملے میں بھارت کے exclusive claim کو قبول نہیں کیا۔ اب آسٹریلیا میں باسمتی کو پاکستان اور بھارت میں صدیوں سے پیدا ہونے والی چاول کی قسم تصور کیا جائے گا۔
آسٹریلین فیڈل کورٹ کا فیصلہ اس نکتہ تک محدود ہے کہ Australian GI/trademark framework کے تحت بھارت کو ایکسکلیوسو پروٹیکشن exclusive protection دینے کی شرائط پوری ہوتی ہیں یا نہیں۔
اسلام آباد مین پاکستان کی وزارتِ تجارت کے مطابق آسٹریلین حکام پہلے ہی تسلیم کر چکے ہیں کہ باسمتی چاول پاکستان میں بھی پیدا ہوتا ہے، پاکستانی تاجروں اور برآمد کنندگان کو باسمتی کا نام استعمال کرنے کا مساوی اور جائز حق حاصل ہے۔
آسٹریلین وفاقی عدالت کے فیصلے سے باسمتی پر پاکستان کے تاریخی اور جغرافیائی حق کو تقویت ملی، باسمتی ایک تاریخی طور پر تسلیم شدہ خطے کی پیداوار ہے جو پاکستان اور بھارت کے علاقوں پر مشتمل ہے، کوئی ایک ملک یا قومی ادارہ باسمتی کے نام پر خصوصی اور اجارہ دارانہ حق کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
آسٹریلوی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے باسمتی کاشتکاروں، ملرز اور برآمد کنندگان کے لیے اہم کامیابی ہے، فیصلے سے پاکستانی باسمتی کے تجارتی اور دانشورانہ املاک کے حقوق کا تحفظ ہوا ہے۔ پاکستانی برآمد کنندگان آسٹریلیا میں مستند پاکستانی باسمتی کی مارکیٹنگ کا حق برقرار رکھیں گے۔
پاکستان باسمتی کو اپنی زرعی وراثت اور برآمدی شناخت کے اہم حصے کے طور پر تحفظ کرنے میں تو کامیاب ہے تاہم پاکستانی باسمتی کی ایکسپورٹ کو بڑھانا اصل چیلنج ہے۔ انترنیشنل مارکیٹوں مین پاکستانی باسمتی کو بھارتی باسمتی سے مقابلہ کا بھاری چلنج درپیش ہے۔
آسٹریلیا کی فیڈرل کورٹ میں پاکستان کی اہم قانونی کامیابی پر، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے وزارتِ تجارت کی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے پاکستان کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے وزارتِ تجارت کی ٹیم کی انتھک کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
جام کمال خان کا کہنا تھا کہ متعلقہ حکام اور شراکت داروں کی مربوط کوششوں نے باسمتی پر پاکستان کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیئے: جنوبی پنجاب میں آئندہ تین سے پانچ گھنٹوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان






