
(ویب ڈیسک) کراچی میں میر رضا کیس میں بہت ہائی پروفائل یقین دہانیوں اور بہت بھاری تحقیقاتی ٹیم بن جانے کے بعد بھی کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔ اس کی بجائے تفتیشی حکام نے 10 افراد کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کرنے کا فیصلہ میڈیا میں لیک کیا ہے۔
میڈیا میں شائع کروائی گئی خبروں کے مطابق میر رضا قتل کیس میں تفتیشی حکام نے 10 افراد کی فہرست تیار کی ہے جنہیں پوچھ گچھ کے لیے طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تفتیشی ذرائع نے بتایا کہ تفتیش کیلئے طلب کئے جانے والے افراد کی فہرست میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے میر رضا کے ساتھ قرض کے معاملات تھے۔
میڈیا کو لیک کی گئی تفصیل یہ ہے کہ اس فہرست میں شامل افراد سے میر رضا نے قرضہ لے رکھا تھا۔ ایک میڈیا آؤٹ لیت نے ایک قرض خواہ کا نام عابد بتایا ہے اور لکھا کہ مقتول نے عابد سے ایک کروڑ 75 لاکھ روپے قرضہ لیا تھا۔
تفتیش کیلئے طلب کرنے سے پہلے ہی فہرست کو لیک کر دینے والے تفتیشی ذرائع کے مطابق اور اور شخص مونی نے بھی میر رضا کو 5 لاکھ روپے قرض دے رکھا تھا۔
ان تفتیشی ذرائع نے میڈیا آؤٹ لیٹ کو بتایا کہ میر رضا نے کئی لوگوں سے قرض لیا تھا۔ 10 افراد سے 5 کروڑ سے زائد قرض لینے کی تفصیلات مرتب کرلی گئی ہیں جن سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔
یہ واضح نہیں کہ تین ایس پی افسروں اور ڈی آئی جی پر مشتمل تفتیشی ٹیم نے مطلوبہ افراد سے تفتیش کرنے سے پہلے ہی صرف طلب کرنے کے فیسلہ کی میڈیا مین تشہیر کیوں کروائی۔ اس سے قبل آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے میر رضا کیس میں” کوتاہیوں” کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ کوتاہیاں سب سے ہوئی ہیں، محکمہ صحت کے میڈیکو لیگل افسر سے بھی کوتاہی ہوئی۔
آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ میر رضا کیس میں تفتیش کے دوران سامنے آنے والی تمام کوتاہیوں کا تدارک کیا جا رہا ہے، جبکہ میڈیکل بورڈ کی تفصیلی رپورٹ کی روشنی میں تحقیقات جاری ہیں تاہم پہلے جو میڈیکو لیگل رپورٹ سامنے آئی تھی، پولیس اسی کی بنیاد پر تحقیقات آگے بڑھا رہی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: میر رضا کے خون میں جسم کو سن کرنے والی دوا کیوں موجود تھی؟ نئے شواہد سامنے آ گئے






