
( ویب ڈیسک ) امریکا کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کی دھمکی کے بعد جمعہ کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا، جس سے سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات دوبارہ نمایاں ہوگئے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعہ کو 2:47 جی ایم ٹی تک برینٹ خام تیل کے سودے ایک سینٹ یا 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 87.08 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 6 سینٹ بڑھ کر 81.31 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
دونوں اہم بینچ مارک رواں ہفتے تقریباً 4 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہیں، اگرچہ گزشتہ روز تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
ریسٹڈ انرجی کی سینئر نائب صدر سوزن بیل کے مطابق خام تیل کے ذخائر سے متعلق منفی اعداد و شمار کے باوجود وسیع تر جغرافیائی سیاسی صورتحال قیمتوں میں بڑی کمی کو روک رہی ہے۔
امریکا نے جمعرات کو خبردار کیا تھا کہ وہ ایران کی بحری ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے اور تہران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھایا جاسکتا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ آئندہ ہفتے مزید ایسے اقدامات سامنے آسکتے ہیں جو کسی ملک کو اقتصادی طور پر تنہا کرنے کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:عالمی سمندروں پر نئی طاقت کا راج؟ 13 ممالک نے ہاتھ ملا لیے
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری ٹریفک کو محدود کردیا ہے۔ تنازع سے قبل دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اس اہم آبی گزرگاہ سے ہوتی تھی، جس کے باعث موجودہ کشیدگی عالمی توانائی کی منڈی کے لیے انتہائی اہم بن گئی ہے۔
دوسری جانب تیل کی قیمتوں میں اضافے کو کمزور عالمی طلب کے خدشات محدود کر رہے ہیں۔ اوپیک اور بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے رواں سال عالمی تیل کی طلب میں اضافے کے اپنے اندازوں کو کم کیا ہے، جبکہ امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں ساڑھے تین سال سے زائد عرصے کے دوران سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی طلب میں کمی کے خدشات ایک دوسرے کے اثرات کو متوازن کر رہے ہیں، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں فی الحال بڑے اتار چڑھاؤ کے باوجود واضح سمت سامنے نہیں آ رہی۔
اسی دوران متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ابوظبی نیشنل آئل کمپنی کے دو بحری جہازوں کو جمعرات کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اماراتی حکومت نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایرانی حملہ قرار دیا ہے۔






