
(24 نیوز)امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی قیادت میں پیٹرولیم لیوی ٹیکس کے خلاف گورنر ہائوس کراچی کے سامنے احتجاجی دھرنا،
سیکیورٹی فورسز کی جانب سے گورنر ہاؤس سے قبل ہی کنٹینر لگا کر راستہ روکا ہوا تھا، گورنر ہاؤس کے باہر رینجرز اور پولیس کی اہلکاروں کی بھاری نفری موجود ہیں۔
احتجاجی دھرنے کے دوران کارکنان کی جانب سے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی اور پیٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ، جماعت اسلامی کے کارکنان گورنر ہاؤس کے باہر سڑک پر بیٹھ گئے۔
اس موقع پر امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفرخان نے گورنرہاوس کے باہردھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پولیس سے مذاکرات کرنے اور کنٹینر ہٹانے کی درخواست کی۔
انھوں نے کہا کہ آج ہم عوامی حق کے لیے گورنرہاوس پہنچے ہیں،لیوی ٹیکس کی مد میں بارہ سو بیس اورب وصول کیے گئے ہیں، وفاقی حکومت کو عوامی حقوق چھیننے نہیں دیں گے، بجلی کے بلوں میں ٹیکسوں کی بھرمار کردی ہے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ ظلم وجبرکانظام قائم نہیں رہنے دیں گے، مریم نواز گیارہ ارب کے جہاز خریدیں لیکن آئی ایم ایف نہیں پوچھتا، چیئرمین سینیٹ نوکروڑ کی گاڑی خریدیں تو سب اچھا ہے ، وزیراعظم نے اب تک گاڑیوں کے پروٹوکول میں 2 مرتبہ دورہ کیاہے، قومی سرمایہ ضائع کی جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ میررضا کے قاتل ابھی تک گرفتارنہیں کیے گئے ، میررضاکے قاتلوں کےکون تحفظ فراہم کررہاہے؟میررضاکے لواحقین کو انصاف ملناچاہیے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ پورے پاکستان کے گورنر ہاؤسز اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں دھرنوں کا آغاز ہوگیا ہے,جو لوگ سمجھتے تھے کہ جماعت اسلامی صرف دعویٰ کرسکتی ہے وہ آکر دیکھ لے,پیٹرولیم لیوی کے نام پر بھاری بھرکم بھتہ ٹیکس ہر صورت واپس لینا ہوگا, آئی پی پیز کے نام پر کیا جانا والا دھندا ہر صورت ختم کرنا ہوگا۔
منعم ظفرخان نے کہا کہ حکمران سن لیں کہ جماعت اسلامی تمہارا تعاقب جاری رکھے گی،جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کے بارے میں پورے پاکستان میں آواز بلند کی، کے الیکٹرک کے ظلم کے حوالے سے جماعت اسلامی کی قیادت نے کراچی کے عوام کو آگاہ کیا،جماعت اسلامی نے بتایا یہ وہ ادارے ہیں جن کے ذریعے عوام کے جیبوں پر ڈاکا ڈالا جاتا ہے ۔
انھوں نے کہا کہ ایف بی آر کا ادارہ ان تمام صورتحال میں کیا کررہا ہے،2024 میں 1220 ارب روپے صرف لیوی کے نام پر عوام سے وصول کیے گئے، عوام سے ٹیکس سے وصول کرنے کے لیے 1438 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف رکھا ہے، حکمرانوں نے اپنے ہدف سے زیادہ 100 ارب روپے وصول کرلیے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ 476 ارب روپے ایف بی آر نے عوام سے ٹیکس کی مد میں وصول کیے ہیں،حکمرانوں کے ٹھاٹھ باٹھ ختم ہونے کے لیے تیار نہیں ہے اور عوام پر ٹیکس پر ٹیکس لگائے جارہے ہیں، ایک حمام میں سارے ہی ننگے ہیں اور یہ فارم 47 کی پیداوار اسمبلی میں بیٹھ کر مزے لے رہے ہیں، فارم 47 کی پیداوار اسمبلی میں بیٹھ کر ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف جب وزیر اعظم نہیں تھے تو کہتے تھے کہ شہر کو پیرس بنادوں اور پانی جا مسئلہ حل کردوں گا،وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف جب وزیر اعظم بننے کے بعد کراچی آئے تو 24 سے زائد گاڑیوں کے پروٹوکول میں آئے اور چلے گئے،فارم 47 کی پیداوار کون ہوتے ہیں تم بتاؤ تمہاری کیا اوقات ہے تم تو فارم 47 کی پیداوار ہو، فارم 47 کی پیداوار کا موضوع عوامی مسائل نہیں بلکہ آپس میں فرینڈلی اپوزیشن ہے۔
منعم ظفرخان نے کہا کہ جماعت اسلامی فرسودہ نظام کے خلاف ہے، صوبائی حکومت بتائے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بتائیں کہ میر رضا کے قاتلوں کو کون تحفظ دے رہا ہے، جماعت اسلامی شہر کے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے، جماعت اسلامی کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام نے بنیادی حقوق کے حصول چاہتی ہے، ہم گورنر ہاؤس کے کونے تک محدود نہیں رہیں گے گورنر ہاؤس کے دروازے تک جائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تحریک اہل پاکستان کو ظلم کے نظام سے نکالنے کی تحریک ہے، پورے ملک میں ہونے والے دھرنے حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں :محکمہ سکول ایجوکیشن کا گھوسٹ ملازمین کے خلاف بڑا فیصلہ






