9

جب جنگ آسمان سے نکل کر سرورز میں داخل ہوئی: معرکۂ حق اور پاکستان کی نیکسٹ لیول وارفیئر

جنگ کا ایک زمانہ تھا جب میدانِ جنگ کا مطلب زمین، سمندر اور آسمان ہوا کرتا تھا، توپ کہاں کھڑی ہے، ٹینک کہاں بڑھ رہا ہے، جہاز کس سمت سے آ رہا ہے اور میزائل کس ہدف کی طرف جا رہا ہے۔ جنگ کا حساب انہی چیزوں سے لگایا جاتا تھا، پھر ٹیکنالوجی نے جنگ کا نقشہ بدل دیا، آج دشمن کو شکست دینے کے لیے ضروری نہیں کہ اس کے ہر مورچے پر بم گرایا جائے؛ کبھی اس کا رابطہ توڑ دینا، اس کی معلوماتی برتری چھین لینا، اس کے مواصلاتی نظام کو متاثر کرنا یا اس کے فیصلہ سازی کے عمل میں خلل ڈال دینا بھی اتنا ہی بڑا عسکری اثر پیدا کر سکتا ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں جنگ کا اگلا محاذ شروع ہوتا ہے: سائبر اسپیس۔

مئی 2025 کا معرکہ، جسے پاکستان میں معرکۂ حق اور آپریشن بنیانٌ مرصوص کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اسی بدلتی ہوئی جنگی دنیا کی ایک غیر معمولی مثال بن کر سامنے آیا،  مختصر دورانیے کے اس تصادم میں طیارے، میزائل، ڈرون اور فضائی دفاعی نظام تو میدان میں تھے ہی، مگر ایک اور جنگ بھی ساتھ ساتھ جاری تھی۔

ایسی جنگ جس کی گھن گرج آسمان پر سنائی نہیں دیتی تھی، جس میں دھواں نہیں اٹھتا تھا اور جس کے محاذ پر سپاہی بندوق لے کر کھڑے نہیں تھے، یہ جنگ ڈیٹا، نیٹ ورک، کمیونیکیشن، نگرانی، الیکٹرانک سگنلز اور سائبر نظاموں کی جنگ تھی، پاکستان کے ایئر چیف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے مئی 2026 میں تاریخ ساز فتح کا پہلا سال مکمل ہونے کی تقریب میں بتایا تھا کہ پاک فضائیہ کی سائبر فورس نے بھارتی کمیونیکیشن ہبز، پاور گرڈز اور ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا اور اسے ایک نئے طرز کی سائبر سے مربوط ملٹی ڈومین وارفیئر قرار دیا، بھارت نے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، اس لیے ان تفصیلات کو پاکستانی عسکری دعوے کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہے۔

لیکن اصل کہانی صرف یہ نہیں کہ سائبر حملہ ہوا یا نہیں ہوا، اصل کہانی اس سے کہیں بڑی ہے: پاکستانی عسکری سوچ نے جنگ کو کس سطح پر سمجھنا شروع کر دیا تھا؟

دنیا بھر کی جدید افواج اب یہ تسلیم کر چکی ہیں کہ سائبر ڈومین محض کمپیوٹر سکیورٹی کا معاملہ نہیں رہا، یہ جنگی طاقت کا حصہ ہے، ایک فوج اپنے کمانڈ اینڈ کنٹرول، مواصلات، انٹیلی جنس، لاجسٹکس، نگرانی اور ہتھیاروں کے نظاموں کے لیے جتنی زیادہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر انحصار کرتی ہے، اتنی ہی زیادہ اس کی طاقت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نیٹ ورکس سے وابستہ ہو جاتی ہے، یوں دشمن کے لیے ایک نیا سوال پیدا ہوتا ہے: سامنے کھڑے طیارے کو کیسے مارنا ہے؟ سے پہلے یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ اس طیارے کو معلومات کون دے رہا ہے، اس کا رابطہ کس نظام سے ہے، اسے ہدف کی معلومات کہاں سے مل رہی ہیں اور اس کے پیچھے پورا ڈیجیٹل ایکو سسٹم کتنا محفوظ ہے؟

یہی جدید جنگ کی وہ تبدیلی ہے جسے سادہ الفاظ میں ’’سسٹم بمقابلہ سسٹم‘‘ کی جنگ کہا جا سکتا ہے، CASS سے وابستہ ایک سائبر ماہر نے بھی 2025 میں اسی تصور کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ پلیٹ فارم بمقابلہ پلیٹ فارم سے سسٹمز بمقابلہ سسٹمز کی طرف منتقل ہو چکی ہے اور سائبر نیٹ ورک سینٹرک آپریشنز کا ایک اہم enabler ہے، اسی بحث میں بتایا گیا کہ پاک فضائیہ نے تقریباً 25 ہزار اثاثوں کو سائبر سکیورٹی کے دائرے میں مربوط کیا ہے۔

یہاں پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا وژن اہم ہو جاتا ہے۔ یہ تبدیلی ایک رات میں نہیں آئی، خود ایئر چیف نے کہا کہ مئی 2025 میں دنیا نے جو کچھ دیکھا وہ چند دنوں میں حاصل نہیں ہوا بلکہ گزشتہ چار سے پانچ برس کی transformative modernization کا نتیجہ تھا، انہوں نے اس جنگ کو پاک فضائیہ کی تاریخ کا ایک full-spectrum، multi-domain operation بھی قرار دیا۔

یعنی جنگ شروع ہونے سے بہت پہلے جنگ کا تصور تبدیل ہو چکا تھا۔

پاک فضائیہ نے روایتی فضائی طاقت کے ساتھ سائبر، الیکٹرانک وارفیئر، اسپیس، مصنوعی ذہانت، نگرانی اور ڈیٹا کو ایک بڑے آپریشنل تصور میں جوڑنے کی سمت قدم بڑھایا، ستمبر 2025 میں ایئر چیف نے خود واضح کیا کہ پاک فضائیہ اسپیس، الیکٹرانک وارفیئر، سائبر ٹیکنالوجیز اور دیگر niche domains میں اپنی صلاحیتیں آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔

یہاں ایک دلچسپ نکتہ ہے، عام آدمی کے لیے سائبر فورس کا تصور شاید یہ ہے کہ کسی ویب سائٹ کو ہیک کر لیا جائے، لیکن فوجی سطح کی سائبر وارفیئر اس سے کہیں وسیع تصور ہے، اس میں معلومات حاصل کرنا، مواصلاتی نیٹ ورکس کو متاثر کرنا، کمانڈ اینڈ کنٹرول کو disrupt کرنا، اہم انفراسٹرکچر پر اثر ڈالنا، دشمن کے ڈیجیٹل ماحول میں vulnerabilities تلاش کرنا اور اپنی فورس کو ایسے حملوں سے محفوظ رکھنا شامل ہو سکتا ہے،یوں سائبر فورس خود ایک ’’خاموش توپخانہ‘‘ بن جاتی ہے جس کی گولیاں نظر نہیں آتیں مگر ان کا اثر میدانِ جنگ میں محسوس ہو سکتا ہے۔

آپریشن بنیانٌ مرصوص کے دوران پاکستانی حکام اور ریاستی ذرائع نے ایسے ہی اثرات کی متعدد تفصیلات بیان کیں، Associated Press of Pakistan نے 10 مئی 2025 کو رپورٹ کیا کہ بھارتی ویب سائٹس اور اداروں کے خلاف سائبر کارروائیوں میں BJP کی ویب سائٹ سمیت متعدد پلیٹ فارمز کو نشانہ بنایا گیا، حساس معلومات کے اخراج اور بھارتی ایئر فورس سمیت بعض ڈیٹا بیسز تک رسائی کے دعوے سامنے آئے، جبکہ 2,500 سے زائد نگرانی کے کیمروں پر کنٹرول حاصل کرنے کی بھی اطلاع دی گئی۔

ان سائبر آپریشنز کو ’’آپریشن ڈیوائن بائٹس‘‘ کا نام دیا گیا، جس کے تحت مبینہ طور پر پاک فضائیہ کی سائبر فورس نے متعدد بھارتی تنظیموں اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا، رپورٹس کے مطابق اس کارروائی کے دوران تقریباً 4,400 ICT elements پر اثر ڈالا گیا، جن میں سرورز، کمپیوٹر سسٹمز، ویب سائٹس، ڈیٹا بیس، مواصلاتی نظام، نگرانی کے نظام اور دیگر IT components شامل تھے، یوں آپریشن ڈیوائن بائٹس مئی 2025 کے تنازع میں سائبر وارفیئر، الیکٹرانک وارفیئر، نگرانی اور روایتی عسکری طاقت کے امتزاج کی ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آیا۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں ’’ڈیجیٹل محاذ‘‘ کی اصل اہمیت سمجھ میں آتی ہے۔

فرض کیجیے ایک بڑے ملک کے پاس جدید جنگی طیارے ہیں، جدید میزائل ہیں، جدید ریڈار ہیں اور ایک وسیع دفاعی نیٹ ورک ہے، لیکن اگر اس پورے نظام کے اندر معلومات کا بہاؤ متاثر ہو جائے، اگر ایک کمانڈ سنٹر دوسرے سے بروقت رابطہ نہ کر سکے، اگر نگرانی کے نظام میں خلل پیدا ہو جائے یا فیصلہ سازی کے لیے درکار ڈیٹا بروقت نہ پہنچ سکے تو جدید ترین ہتھیار بھی اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ کام نہیں کر پاتے، یہی وجہ ہے کہ آج سائبر، الیکٹرانک وارفیئر اور اسپیس کو الگ الگ خانوں میں رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

مئی کے معرکے میں فضائی جنگ کے ساتھ سائبر اور الیکٹرانک وارفیئر نے بھی بھارتی فوجی رابطوں اور انفراسٹرکچر پر اثر ڈالا، ایئر چیف کے مطابق سائبر اور الیکٹرانک وارفیئر نے بھارتی فوجی coordination کو متاثر کرنے میں کردار ادا کیا۔

یہی ’’ملٹی ڈومین وارفیئر‘‘ ہے۔ ایک جہاز آسمان میں ہے، مگر اس کی آنکھ شاید اسپیس میں ہے، اس کا رابطہ ایک نیٹ ورک کے ذریعے ہے، اس کے اردگرد الیکٹرانک سگنلز کا ماحول ہے؛ اس کی معلومات کسی دوسرے سینسر سے آ رہی ہیں اور اس پورے نظام کی حفاظت یا disruption سائبر ڈومین سے جڑی ہوئی ہے،چنانچہ اب جنگ کا نقشہ ایک جہاز یا ایک میزائل کی تصویر نہیں رہا، یہ پورا ایک kill chain ہے۔ sensor سے decision تک، decision سے shooter تک، اور shooter سے اثر یا رزلٹ تک۔

اسی لیے مستقبل کی جنگ میں میزائل کو صرف میزائل سے روکنا واحد راستہ نہیں ہوگا،ڈرون کو صرف دوسرے ڈرون سے تباہ کرنا بھی واحد جواب نہیں ہوگا، اگر کسی ہتھیار کی کامیابی اس کے navigation، communications، targeting یا external data پر منحصر ہے تو الیکٹرانک اور سائبر صلاحیتیں اس پورے نظام کے خلاف دفاعی یا جارحانہ اثر پیدا کر سکتی ہیں،البتہ کسی مخصوص میزائل کے ’’سائبر ہیک‘‘ ہو کر راستہ بدلنے جیسے دعوے کو ہر معاملے میں حقیقت سمجھ لینا درست نہیں، عملی دنیا میں cyber، electronic warfare، jamming، spoofing اور kinetic effects کی حدود اور طریقۂ کار مختلف ہوتے ہیں، اصل نکتہ یہ ہے کہ جدید جنگ میں حریف کے weapon platform کے بجائے اس کے پورے digital ecosystem کو سمجھنا اور اس کے خلاف اثر پیدا کرنا اہم ہو چکا ہے۔

اور پھر اس کہانی میں اسپیس آ جاتا ہے۔

سائبر اور اسپیس دراصل ایک دوسرے سے الگ دنیائیں نہیں رہیں، سیٹلائٹ کمیونیکیشن، navigation، imagery، surveillance اور timing جیسی صلاحیتیں جدید عسکری نظام کے لیے انتہائی اہم ہو سکتی ہیں، جیسے پہلے لکھا کہ ایک جنگجو طیارہ صرف اپنے پائلٹ کی آنکھوں سے نہیں لڑتا؛ وہ ایک بڑے sensor network کا حصہ ہوتا ہے، اسی لیے جو ملک اپنے space-based assets، cyber resilience، electronic warfare اور air operations کو ایک دوسرے سے جوڑ سکتا ہے، وہ میدانِ جنگ میں صرف ہتھیار نہیں بلکہ معلومات کی رفتار بھی کنٹرول کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

پاکستان کی جانب سے اسپیس، سائبر اور الیکٹرانک وارفیئر کو ایک وسیع تر multi-domain تصور میں آگے بڑھانے کی بات اب کوئی پوشیدہ بحث نہیں رہی، تاہم حساس عسکری سیٹلائٹس، ان کی صلاحیتوں اور operational employment کی مکمل تفصیلات ظاہر نہ ہونا بھی فطری ہے، جو چیز اہم ہے وہ یہ کہ پاکستان کی عسکری سوچ میں اسپیس اور سائبر اب مستقبل کی کوئی دور کی کہانی نہیں بلکہ evolving military architecture کا حصہ بن چکے ہیں، جدید دفاعی تجزیوں میں بھی پاکستان کی multi-domain operations کو cyber، electronic warfare، ISR اور space-based capabilities کے مربوط استعمال کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔

اور ’’آپریشن ڈیوائن بائٹس‘‘ کی کہانی بھی اسی بڑے سفر کا ایک باب ہے، جون 2026 میں شائع ہونے والی ایک تفصیلی تحریر میں اسے پاک فضائیہ کی سائبر فورس کی بڑھتی ہوئی صلاحیت اور مئی 2025 کے تنازع میں سائبر، electronic warfare، surveillance اور conventional combat power کے امتزاج کی مثال قرار دیا گیا، اسی رپورٹ کے مطابق اس مہم کی نگرانی ایئر چیف کے strategic vision کے تحت کی گئی اور اسے پاک فضائیہ کے وسیع تر multi-domain framework سے جوڑا گیا۔

یہاں ایک لمحے کے لیے ذرا منظر بدل کر دیکھیے۔

ایک طرف آسمان میں جنگی طیارے پرواز کر رہے ہیں، دوسری طرف کسی کمانڈ روم میں درجنوں اسکرینیں روشن ہیں، کہیں ریڈار کی تصویر ہے، کہیں سیٹلائٹ کا ڈیٹا، کہیں الیکٹرانک سگنلز کی نگرانی، کہیں ڈرون کی feed اور کہیں ایسے نیٹ ورکس کی نگرانی جو بظاہر جنگ کے میدان سے ہزاروں کلومیٹر دور ہیں،پائلٹ شاید دشمن کا جہاز دیکھنے سے پہلے اس کی جنگی تصویر کا ایک حصہ دیکھ چکا ہے۔ اور اسی لمحے کہیں ایک اور محاذ پر کمپیوٹر کے سامنے بیٹھا ماہر بھی اپنا کام کر رہا ہے، اس کے ہاتھ میں رائفل نہیں، مگر اس کے سامنے بھی جنگ ہے۔

یہی نیکسٹ لیول وارفیئر ہے۔

اس جنگ میں فتح کا فیصلہ صرف یہ نہیں کرے گا کہ کس کے پاس زیادہ Rafale ہیں، کتنے J-10 ہیں، کتنے میزائل ہیں یا کتنے ڈرون ہیں، سوال یہ ہوگا کہ کس کے پاس ان تمام چیزوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی صلاحیت ہے، کس کے پاس بہتر sensors ہیں، بہتر data fusion ہے، تیز تر decision cycle ہے، مضبوط cyber defence ہے، مؤثر electronic warfare ہے اور ایسی trained manpower ہے جو ان سب کو ایک coherent military system میں تبدیل کر سکتی ہے اور شاید پاکستان کے لیے اس پورے سفر کا سب سے بڑا اثاثہ کوئی ایک طیارہ، میزائل یا سیٹلائٹ نہیں بلکہ انسان ہے۔

آپ پیسہ خرچ کرکے ایک جدید جنگی طیارہ خرید سکتے ہیں، آپ جدید میزائل خرید سکتے ہیں، آپ ریڈار اور ڈرون خرید سکتے ہیں، لیکن ایک ایسی فورس خریدنا ممکن نہیں جو ان سب کو سمجھتی ہو، انہیں ایک دوسرے سے جوڑ سکتی ہو، بدلتی ہوئی جنگی صورتحال میں فیصلہ کر سکتی ہو اور اگلے خطرے کو اس کے آنے سے پہلے سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

یہی وہ مقام ہے جہاں سائبر فورس دراصل صرف فوجی یونٹ نہیں رہتی، بلکہ قومی انسانی سرمائے کی فیکٹری بن جاتی ہے، ایک نوجوان جو آج سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، نیٹ ورکنگ یا الیکٹرانک وارفیئر سیکھ رہا ہے، وہ کل صرف ایک کمپیوٹر ماہر نہیں ہوگا؛ وہ قومی سلامتی کے ایک ایسے محاذ کا سپاہی ہوگا جس کی سرحد نقشے پر دکھائی ہی نہیں دیتی۔

اور شاید یہی معرکۂ حق کا سب سے خاموش مگر سب سے بڑا سبق ہے۔

جنگ کا میدان بدل چکا ہے۔

اب دشمن صرف سرحد کے اُس پار نہیں ہوتا؛ کبھی وہ ایک نیٹ ورک میں ہوتا ہے، کبھی ایک سگنل میں، کبھی ایک ڈیٹا بیس میں، کبھی خلا میں گردش کرتے ایک سیٹلائٹ کے ذریعے پہنچنے والی معلومات میں۔ توپ اور میزائل اب بھی موجود ہیں، طیارہ اور ٹینک بھی موجود ہیں، مگر ان سب کے پیچھے ایک اور جنگ کھڑی ہو چکی ہے۔

وہ جنگ جو نظر نہیں آتی۔

اور جس دن دنیا نے یہ سمجھ لیا کہ پاکستان نے اس جنگ کی تیاری صرف کتابوں میں نہیں کی بلکہ معرکۂ حق میں اپنی صلاحیتوں کو آزمائش کے میدان میں بھی اتارا، اس دن شاید اصل سرپرائز یہی تھا کہ پاکستان کے پاس صرف جنگی جہاز نہیں تھے۔

پاکستان کے پاس جنگ کا اگلا باب پڑھنے والے دماغ بھی موجود تھے۔

اور جنگ کی تاریخ میں آخرکار اصل فرق ہتھیار نہیں، ہتھیار چلانے والے ذہن پیدا کرتے ہیں، یہی وہ خزانہ ہے جو کسی بیرونی ملک سے خریدا نہیں جا سکتا اور یہی وہ طاقت ہے جس نے پاکستان کو روایتی جنگ سے نکال کر ملٹی ڈومین، سائبر سے مربوط نیکسٹ جنریشن وارفیئر کی طرف دھکیل دیا ہے، معرکۂ حق اس سفر کا اختتام نہیں، شاید یہ صرف دنیا کو یہ بتانے کا پہلا موقع تھا کہ اگلی جنگ کا میدان کہاں بننے والا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں