1

اخلاقی ذمہ داری قبول کریں پمز ہسپتال سانحہ پر پی ایم اے کا ساتھی ڈاکتروں کو مشورہ

(24نیوز)  انسانی جان کی قیمت کسی عہدے، ادارے یا انتظامی مصلحت سے زیادہ ہے۔   معصوم بچوں کی اموات کے معاملے کی مکمل، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے۔ یہ مطالبہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن  کی مرکزی، پنجاب اور لاہور کی قیادت نے آج ایک نیوز کانفرنس میں کیا ہے۔ 

پی ایم اے کے سینئیر رہنماؤں نے کہا کہ  پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن لاہور آج نہایت دکھ، تشویش اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ آپ کے سامنے موجود ہے۔ صحت کا شعبہ کسی بھی معاشرے میں سب سے زیادہ حساس شعبہ ہے، کیونکہ یہاں فیصلوں کا براہِ راست تعلق انسانی جانوں سے ہے۔ ایک مریض، خصوصاً ایک معصوم بچہ، صرف ایک فائل، ایک نمبر یا ایک اعداد و شمار نہیں؛ وہ ایک خاندان کی امید، مستقبل اور زندگی کا مرکز ہوتا ہے۔ 
ہم آج سب سے پہلے مریضوں اور انکے لواحقین کے حق میں آواز بلند کرنا چاہتے ہیں۔
پی ایم اے کے رہنماؤں نے کہا کہ اگر کسی سرکاری ہسپتال میں انتظامی کمزوری، ناقص نگرانی، بروقت فیصلوں کے فقدان، کوالٹی مینجمنٹ کی ناکامی یا ذمہ داری سے انحراف کے نتیجے میں معصوم جانیں جاتی ہیں تو اسے محض ایک معمول کا انتظامی واقعہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ ایک سنگین اخلاقی، انتظامی اور انسانی معاملہ ہے جس پر شفاف اور غیر جانب دارانہ احتساب ضروری ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ 14 معصوم  نومولود بچوں کی اموات کے معاملے کی مکمل، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے۔
اگر تحقیقات میں انتظامی غفلت یا کوتاہی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف محض رسمی کارروائی کافی نہیں ہوگی۔ جوابدہی کا اصول ہر سطح پر یکساں ہونا چاہیے۔
ہم حکومت سے یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ متاثرہ خاندانوں سے باضابطہ اور غیر مشروط معذرت کی جائے، ان کے دکھ اور نقصان کو تسلیم کیا جائے اور انہیں اعتماد میں لے کر تمام حقائق سامنے لائے جائیں۔
صحت کے نظام میں competence، integrity اور responsibility ضروری ہیں 
پی ایم اے کے رہنماؤں نے کہا، ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ایک مؤثر صحت کا نظام صرف عمارتوں، مشینری اور بجٹ سے نہیں بنتا۔ ایک مضبوط نظام کے لیے:  اہلیت اور قابلیت،  دیانت داری اور کردار،   معیار اور کوالٹی مینجمنٹ،   ذمہ داری اور جواب دہی،  اخلاقی اقدار اور انسانی ہمدردی بنیادی ستون ہیں۔
ہسپتال کے انتظامی عہدے محض اختیارات یا مراعات نہیں بلکہ امانت اور ذمہ داری ہیں۔ جو شخص کسی ہسپتال کے  ادارے کی سربراہی یا انتظامی ذمہ داری  قبول کرتا ہے، اس سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ مریضوں کی حفاظت، ادارے کے معیار اور عملے کی مؤثر نگرانی کو اولین ترجیح دے گا۔

یہ بھی پڑھیئے:  کشمیر کی بساط پر پیپلز پارٹی کی خوبصورت چال، سردار مختار وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار 
ہماری رائے میں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز افراد کو اپنی ذمہ داری کا اخلاقی جائزہ لینا چاہیے۔ اگر کوئی وزیرِ صحت یا متعلقہ انتظامی سربراہ یہ محسوس کرے کہ اس کے دائرہ  اختیار میں ہونے والی سنگین انتظامی ناکامی کی اخلاقی ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے، تو عہدے سے استعفیٰ دینا بھی جمہوری اور اخلاقی جواب دہی کی ایک قابلِ احترام روایت ہے۔
لہٰذا ہم متعلقہ وزیرِ صحت اور PIMS کی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں اپنی اخلاقی اور انتظامی ذمہ داری واضح کریں اور قوم کو جواب دیں کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ان کی جانب سے کیا اقدامات کیے گئے اور کیوں ناکامی ہوئی۔

پی ایم اے کے بارہ مطالبے
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن لاہور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ:
1.   15بچوں کی اموات کی شفاف، غیر جانب دار اور مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔
2. تحقیقات کی رپورٹ اور حقائق کو عوام کے سامنے لایا جائے۔
3. انتظامی غفلت ثابت ہونے پر ذمہ دار افراد کا بلاامتیاز احتساب کیا جائے۔
4. متاثرہ خاندانوں سے حکومت کی جانب سے باضابطہ معذرت کی جائے۔
5. متاثرہ خاندانوں کو مناسب قانونی، انتظامی اور انسانی معاونت فراہم کی جائے۔
6. سرکاری ہسپتالوں میں Quality Management اور Patient Safety Systems کو مؤثر بنایا جائے۔
7. ہسپتالوں کی انتظامی ذمہ داریوں کے لیے اہلیت، میرٹ، دیانت داری اور انتظامی competence کو بنیادی معیار بنایا جائے۔
8. ہر بڑے سرکاری ہسپتال میں واضح Chain of Responsibility اور Accountability Mechanism قائم کیا جائے۔
9. مریضوں اور ان کے اہل خانہ کی شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر اور آزاد نظام بنایا جائے۔
10. ہسپتالوں میں ایمرجنسی، ICU، ادویات، آلات، انفیکشن کنٹرول اور دیگر بنیادی سہولیات کے لیے باقاعدہ Quality Audits کیے جائیں۔
11. مستقبل میں ایسی اموات کی روک تھام کے لیے Root Cause Analysis اور اصلاحی اقدامات کو لازمی بنایا جائے۔
12. صحت کے نظام میں سیاسی یا انتظامی دباؤ کے بجائے میرٹ، قابلیت، پیشہ ورانہ دیانت اور مریضوں کی حفاظت کو ترجیح دی جائے۔
پی ایم اے کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ڈاکٹروں کے حقوق کے ساتھ مریضوں کے حقوق کی بھی محافظ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر، نرس، پیرامیڈیکل سٹاف اور ہسپتال انتظامیہ ایک ہی نظام کا حصہ ہیں۔ کسی ایک فرد یا پیشے کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے ہمیں پورے نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔ تاہم جہاں واضح انتظامی ذمہ داری بنتی ہو وہاں جوابدہی سے فرار بھی قابلِ قبول نہیں۔

یہ بھی پڑھیئے:  پارلیمنٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی نے پمز کے ڈاکٹڑوں، نرسوں کو معطل کرنے، ای ڈی، وزیر صحت کے استعفے کا مطالبہ کر دیا 
ہم حکومت سے  ذمہ دارانہ اقدام کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انسانی جان کی قیمت کسی عہدے، ادارے یا انتظامی مصلحت سے زیادہ ہے۔ اس سانحے کو محض ایک خبر یا وقتی تنازع نہ سمجھا جائے بلکہ اسے صحت کے نظام کی اصلاح کے لیے ایک سنجیدہ موقع بنایا جائے۔

 پریس کانفرنس میں گفتگو کرنے والوں میں  پروفیسر ڈاکٹر شاہد ملک، صدر پی ایم اے لاہور ، پروفیسر ڈاکٹر اشرف نظامی،  ڈاکٹر اظہار احمد چوہدری،مرکزی صدر پی ایم اے سنٹر ،   ڈاکٹر کامران سعید، صدر پی ایم اے پنجاب،  ڈاکٹر واجد علی، جنرل سیکریٹری پی ایم اے لاہور،   ڈاکٹر ارم شہزادی، فنانس سیکریٹری پی ایم اے لاہور  ،  ڈاکٹر کامران احمد، جنرل سیکریٹری پی ایم اے پنجاب ،   ڈاکٹر نادر خان، ڈویژنل نائب صدر لاہور ڈویژن پی ایم اے پنجاب اور  ڈاکٹر احمد نعیم اختر نائب صدر پی ایم اے شامل تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں