10

پمز کا ای ڈی قاتل اس کو گرفتار کریں سینیٹ میں سعدیہ عباسی کا احتجاج

(ویب ڈیسک) مسلم لیگ ن کی سینئیر پارلیمینٹیرین سینیٹر سعدیہ عباسی ایڈووکیٹ نے  14 بچوں کی وفات کے سانحہ میں پمز ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو قاتل قرار دے دیا اور اس کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ سینیٹر سعدیہ عباسی نے وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی اس سانحہ کی خود ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ کیا۔

صحت کے وزیر اور ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال نے آج سینیٹ میں پمز میں 14 نومولود بچوں کے آگ لگنے سے فوت ہو جانے کے سانحہ پر  اپنے استعفے کے مطالبوں پر  بات کی تو ان پر سینیٹ کے  کچھ ارکان نے  شدید تنقید کی۔ ان کی گفتگو کے دوران بھی  احتجاج کیا۔  اس احتجاج کے سبب مصطفیٰ کمال نے تسلیم کیا کہ وہ سانحہ کے ذمہ دار ہیں، لیکن اس کے ساتھ انہوں نے پورے نظام کو بھی ذمہ دار قرار دے دیا۔ سینیٹر سعدیہ عباسی نے سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اور  پمز کے ای ڈی کو براہ راست مجرم قرار دیتے ہوئے اس کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے ساتھ وزیر اعظم  شہباز شریف سے بھی ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ کیا۔ حکومتی اور اپوزیشن دونوں جانب کے سینیٹرز نے تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ آج سینیٹ میں مسلم لیگ ن کی سینئیر پارلیمنٹیرین سینیٹر سعدیہ عباسی ایڈووکیٹ کی گفتگو کافی سخت تھی، وہ  خاص طور پر اپنی حکومت کے لوگوں پر انگلی اٹھا رہی تھیں۔

ہم نے ای ڈی کے تقرر کی سخت مخالفت کی، وہ انتہائی بااثر ہے: سعدیہ عباسی

سینیٹر سعدیہ عباسی کی جو گفتگو میڈیا میں رپورٹ ہوئی ہے اس کے مطابق  سینئیر پارلیمنٹیرین خاتون نے کہا کہ  وہ پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا تقرر کرنے والے  بورڈ میں خود شامل تھیں۔ انہوں نے اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے اس تقرر کی شدید مخالفت کی تھی۔ اس وقت  بیوروکریسی نے اس شخص کی تقرری کی بھرپور حمایت کی۔
سعدیہ عباسی ایڈووکیٹ  نے بتایا کہ کہ ای ڈی پمز انتہائی بااثر ہیں اور ان کی رسائی ایسی جگہوں تک ہے جہاں کوئی ان کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتا۔
سینیٹر سعدیہ عباسی  کا سب سے سخت اعتراض یہ تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سیکرٹری صحت کو معطل کر دیا، لیکن ای ڈی پمز کو معطل نہیں کر سکے۔
انہوں نے ای ڈی پمز کو سانحے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں گرفتار کیا جانا چاہیے تھا اور انتہائی سخت الفاظ میں انہیں “قاتل” کہا۔ سعدیہ عباسی کے الفاظ یہ تھے، “ای ڈی پمز اس واقعے کا قصور وار ہے، اسے تو گرفتار کرنا چاہیے تھا، یہ شخص قاتل ہے۔” انہوں نے کہا کہ ای ڈی پمز قاتل ہیں، اس کے باوجود انہیں عہدے سے نہیں ہٹایا گیا۔

سعدیہ عباسی ایڈووکیٹ  نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم اس بات کی ذمہ داری قبول کریں کہ واقعے میں لاپرواہی ہوئی ہے۔ سعدیہ عباسی کا کہنا تھا کہ کسی نے بھی اس سانحے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

سینیٹر چترالی نے کیا کہا؟
 سینیٹر فلک ناز چترالی کی گفتگو  وزیر صحت مصطفیٰ کمال پر خاصی براہِ راست اور تلخ تنقید پر مشتمل تھی۔ آج کی میڈیا  رپورٹس میں بتایا گیا کہ سینیٹر فلک ناز چترالی نے مصطفیٰ کمال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “اسلام آباد میں دو ہسپتال سنبھلتے نہیں، اچھل اچھل کر کہتے ہیں، نیا صوبہ بنائیں گے۔”
سینیٹر فلک ناز چترالی نے کیا کہ وزیر صحت سینیٹ میں پمز کے قصیدے پڑھ رہے تھے، اس پر شرم سے ڈوب مرنا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ سانحے کے دن خود پمز گئی تھیں۔ سینیٹر نے کہا کہ سکیورٹی گارڈز نے انہیں دھکے دے کر باہر نکال دیا۔
سینیٹر فلک ناز چترالی کی سینیٹ میں تقریر میں سب سے سنگین  الزام یہ تھا کہ فوت ہونے والے نومولود  بچوں کو شاپنگ بیگز میں ان کے والدین کے حوالے کیا گیا اور لوگوں سے کہا گیا کہ کسی کو نہ بتائیں اور وہاں سے چلے جائیں۔
آخر میں انہوں نے وزیر صحت اور حکومت کو اس سانحہ کا ذمہ دار قرار دیا۔
 

خصوصی کمیٹی کی تحریک کی منظوری

سینیٹ میں بھی سانحہ پِمز کی تحقیقات کےلیے خصوصی کمیٹی کی تحریک منظور کرلی گئی۔ پی ٹی آئی کے رہنما علی ظفر نے تحریک پیش کرنے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو حکومت کی بنائی ہوئی کمیٹی پر یقین نہیں۔ انہوں نے سینیٹ کی تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی اپوزیشن کو دینے کا مطالبہ کیا۔

مصطفیٰ کمال کی تقریر کے دوران سینیٹرز کی تنقید

مصطفیٰ کمال آج سینیٹ میں موجود تھے اور اسی اجلاس میں ان کے خلاف  دباؤ بڑھ رہا تھا۔ قومی اسمبلی میں بھی بعد میں ان سے استعفے کا مطالبہ سامنے آیا۔

دوسری جانب وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پِمز واقعے پر اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ کو چھپانے کی کوئی نیت ہے اور نہ ہی کسی کو بچایا جائے گا۔ مصطفیٰ کمال کی باتوں کے دوران بھی ان پر تنقید کی جاتی رہی۔  مصطفیٰ کمال نے خود پر تنقید کے ردعمل میں کہا کہ وہ تمام افسروں کو لائن حاضر کر دیں گے، پھر کوئی رکن پارلیمنٹ کسی کی سفارش لے کر نہ آئے۔  مصطفیٰ کمال نے کسی خاص ژخصیت کا نام لئے بغیر کہا کہ پمز میں ارکان پارلیمنٹ کے سفارشی لوگ لگے ہوئے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھیں :  میں ذمہ دار ہوں، خود کو پیش کرتا ہوں، وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے سینیٹ میں سارے افسروں کو لائن حاضر کرنے کا اعلان کر دیا 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں