
(ویب ڈیسک)نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن و استحکام کیلئے ضروری ہے.
امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے میں منعقدہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق سیمینار سے ورچوئل خطاب کرتے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960 سے سندھ طاس معاہدہ موجود ہے، جو محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ ایک اہم قانونی فریم ورک ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ عالمی بینک سندھ طاس معاہدے کا ثالث ہے اور یہ معاہدہ علاقائی سلامتی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پانی انسانی زندگی، غذائی تحفظ اور معاشی سلامتی کے لیے بنیادی ضرورت ہے، جبکہ ریاستوں کے درمیان پانی کی تقسیم عالمی قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت ہی ممکن ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کئی دہائیوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی وسائل سے متعلق معاملات کے لیے ایک قانونی بنیاد فراہم کر رہا ہے۔
اُنہوں نے زور دیا کہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن، استحکام اور ریاستوں کے درمیان اعتماد کے لیے ضروری ہے، پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون اور سفارتی ذرائع سے اپنا مؤقف اجاگر کرتا رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ اسمبلی نے تین اہم بل منظور کر لئے






