1

برلن کے مئیر کا بلیک میل ہونے سے انکار

(ویب ڈیسک) جرمنی کے دارلاحکومت کو سائبر  بدمعاشوں کی غنڈہ گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، برلن کے مئیر نے سائبر بدمعاشوں کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔

 میئر برلن کے مئیر  کائی ویگنر   نے انکشاف کیا ہے کہ سائبر حملے کے بعد برلن کو ‘بلیک میل’ کیا جا رہا ہے، لیکن ہم تاوان ادا نہیں کریں گے

جرمنی کے  دارالحکومت برلن کے میئر نے انکشاف کیا ہے کہ دو ہفتے قبل ہونے والے ایک سائبر حملے اور ڈیٹا چوری کے بعد شہری حکومت کو تاوان کے لیے بلیک میل کیا جا رہا ہے تاہم انہوں نے کسی بھی قسم کا تاوان ادا کرنے سے سختی سے انکار کر دیا۔

جرمن ہفت روزہ میگزین ‘ڈیر اسپیگل’کے مطابق بلیک میلرز نے 30 بٹ کوائنز کا مطالبہ کیا ہے جن کی مالیت تقریباً 20 لاکھ یورو یا 25 لاکھ ڈالر بنتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس حملے میں ملوث ہیکر گروپ کا نام ‘رائسیڈا’ خیال کیا جا رہا ہے۔

ؤ برلن کے سبکدوش ہونے والے میئر کائی ویگنر  کا کہنا تھا ’برلن ایک سنگین جرم کا نشانہ بنا ہے۔ تاوان کا مطالبہ جمعرات کی شام موصول ہوا تھا تاہم برلن بلیک میلنگ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا‘۔

4 اگست کو ہونے والے اس سائبر حملے نے شہر کے کئی انتظامی محکموں، خاص طور پر ہاؤسنگ اور ماحولیات کے اداروں کو ایک ہفتے تک نیٹ ورک سے منقطع رکھا جس کے باعث کئی روز تک ہاؤسنگ بینیفٹس اور ادائیگیوں کی تمام درخواستوں پر کام مکمل طور پر رکا رہا۔

حکام کی جانب سے ابتدا میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کوئی حساس ڈیٹا چوری نہیں ہوا تاہم بدھ کے روز اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ ممکنہ طور پر شہریوں کا ذاتی ڈیٹا متاثر ہوا ہے۔ 

ڈیر اسپیگل کے مطابق رائسیڈا نے دھمکی دی ہے کہ اگر اسے ایک ہفتے میں مطلوبہ رقم نہ ملی تو وہ یہ ڈیٹا پبلک کر دیں گے۔ 

میئر کے مطابق جرمنی کی سکیورٹی سروسز مجرموں کو پکڑنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کررہی ہیں اور اس بات کی جانچ کی جا رہی ہے کہ کون سا ڈیٹا چوری ہوا ہے۔

واضح رہے کہ ‘رائسیڈا’ گروپ نے 2023 میں برٹش لائبریری پر ہونے والے رینسم ویئر  حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی اور 20 بٹ کوائنز (اس وقت تقریباً 8 لاکھ 50 ہزار ڈالر) کا مطالبہ کیا تھا۔ 

لائبریری کی جانب سے تاوان ادا کرنے سے انکار پر اس گروپ نے ڈارک ویب پر 5 لاکھ فائلیں شائع کر دی تھیں جن میں سبسکرائبرز اور عملے کا ذاتی ڈیٹا شامل تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں