
(اویس کیانی) پمز سانحہ کے دن بعد وزیر اعظم شہباز نےپمز کے ای ڈی کو معطل کر دیا۔ دوسرے سات افسروں کو بھی معطل کیا ہے۔ پی ایم کے حکم سے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر سلمان پمز کے نئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بن گئے ہیں۔
یہ معطلیاں تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں کی گئی سفارش پر کی ہیں۔
آج پرائم منسٹر ہاؤس میں ہونے والے جلاس میں تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کی گئی۔ وزیرِ اعظم نے کمیٹی کی جانب سے نشاندہی پر 8 افراد کو فوری طور پر معطل کر کے انکے خلاف فوجداری مقدمے بنانے کی منظوری دے دی.
ان لوگوں کے خلاف نہ صرف ڈیپارٹمٹل کاروائی کی جائے گی بلکہ وزیراعظم شہباز شریف نے فوجداری (کریمینل کوڈ) قوانین کے تحت کاروائی کرنے کی بھی ہدایت کی ہے.
یہ بھی پڑھیں: پمز کا ای ڈی قاتل، اس کو گرفتار کریں، سینیٹ میں سعدیہ عباسی کا احتجاج
پمز کے ایگزیکٹیو ڈائیریکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹیو ڈائیریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور چوہدری ڈاکٹر اویس علی شاہ، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئیر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائیریکٹر سیکیورٹی پمز عثمان، سی ڈی اے کے ایمرجنسی سروس کے ڈی جی ڈاکٹر عبدالرحمن ان آٹھ لوگوں میں شامل ہیں جن کو معطل کیا گیا ہے اور اب ان پر فوجداری مقدمے بنیں گے۔
وزیرِ اعظم کی بلا امتیاز فوجداری کاورائی کی ہدایت
سینیٹ میں کل کے اجلاس مین مسلم لیگ ن کی سینیٹر سعدیہ عباسی ایڈووکیٹ نے واضح الفاظ مین پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو قاتل کہا تھا اور اس کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا تھا، پیپلز پارٹی نے بھی ایسے ہی سخت مطالبے کئے تھے۔ وزیر اعظم نے اپنی بنائی ہوئی کمیٹی کی تحقیقات مکمل ہونے کا انتظار کیا اور آج پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں مین سامنے آنے والی رائے، اور پارلیمنٹ سے باہر عوامی ڈسکورس میں سامنے آنے والی پلس کے مطابق کارروائی کرنے کا حکم صادر کر دیا۔ وزیرِ اعظم نے پمز میں سیکیورٹی پر مامور کمپنی اور اسکے عہدیداروں کے خلاف کاروائی کی بھی منظوری دی.
سزا کے ساتھ ریوارڈ
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنی جان کی پراہ کئے بغیر بچے کو بچانے والی خاتون نرس کیلئے ستارہ خدمت دینے کی منظوری دی ہے. انہوں نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پمز کی گائنی وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون گارڈ کو او ایس ڈی بنا کر مزید تحقیقات کرنے کی بھی ہدایت کی.
ڈاکٹر سلمان پمز کے نئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر
وزیرِ اعظم نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے چیف ایگزیکتو آفیسر ڈاکٹر سلمان کو پمنز کا ایکٹنگ ایگزیکٹیو ڈائیریکٹر تعینات کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیرِ اعظم کے حکم سے جن لوگوں کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے، وزیراعظم نے انکی جگہ نئے لوگوں کی فوری اور یکمشت تعیناتی کی ہدایت بھی کی ہے۔
وزیرِ اعظم نے تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کو فوری طور پر پبلک کرنے کی ہدایت بھی کی ہے، رپورٹ کچھ ہی دیر میں وزارت قومی صحت کی ویپ سائیٹ پر آویزاں کر دی جائیگی.
قوم غمگین ہے، ہر مجرم کو کیفر کردار تک پہنچاؤں گا
وزیراعظم شہباز شریف نے تحقیقاتی کمیٹی کے ساتھ اپنے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب لوگ کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں. اس واقعے کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا.
انہوں نے کہا کہ معصوم بچوں کی موت ایک ایسا اندوہناک واقعہ ہے جس پر پوری قوم غمگین ہے. بچوں کے والدین کے ساتھ مجھ سمیت پوری قوم کی ہمدردیاں ہیں. واقعے کے ذمہ داران کو مثالی سزا دلوائی جائیگی تاکہ دوبارہ کسی کی مجرمانہ عفلت سے کسی ماں سے اسکا لخت جگر جدا نہ ہوا.
آج پرائم منسٹر ہاؤس میں ہونے والے اجلس میں تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کی گئی.
اس رپورٹ میں کہا گیا کہ تقریباً دو منٹ میں آگ ساری وارڈ میں پھیل گئی تھی۔ اس واقعہ کی سی سی ٹی وی ویڈیو اجلاس میں دکھائی گئی.
ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا پمز میں آتشزدگی یا ہنگامی صورتحال کے حوالے سے کوئی تفصیلی ایس او پیز یا ٹریننگ موجود نہیں.
پمز کے 13 ایس اوپیز میں صرف دو ذیلی سیکشنز میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا تذکرہ پایا گیا.
واقعے کے وقت سپر وائزری اسٹاف ڈیوٹی پر موجود نہ تھا.
واقعے کے وقت دو نرسیں، ایک خاتون گارڈ اور ہاؤس آفیسر وارڈ میں موجود تھے.
آگ لگنے اور پورا وارڈ جلنے میں صرف دو منٹ کا مختصر وقت لگا.
ایک نرس نے وارڈ میں اگ پھیلنے سے پہلے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر ایک بچے کی جان بچائی.
آگ لگنے کے 6 منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو کال گئی جبکہ پہلا ایمرجنسی ریسپانس اس کے 15 منٹ بعد پہنچا.
صرف ایک ماہ پہلے جولائی میں پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں آتشزدگی کا واقعہ ہوا، جس کے بعد بھی ہسپتال میں حفاظتی اقدامات پر سنجیدہ اقدامات نہیں لئے گئے.
وارڈ میں کوئی فائر الارم، سپرنکلر سسٹم موجود نہ تھا.
نیو نیٹل وارڈ میں ڈبلیو ایچ او کے اس حوالے سے تمام تر قوائد کی خلاف ورزی پائی گئی.
ہسپتال میں آگ جیسی ہنگامی صورتحال کے حوالے سے کوئی افسر موجود نہیں، اسسٹنٹ ڈائیریکٹر کو اضافی ذمہ داری سونپی گئی تھی.
اجلاس کو ہسپتال کی خستہ حالت اور بد انتظامی پر بھی بریفنگ دی گئی.
وزیرِ اعظم ن شہباز شریف نےا تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ شاہد خان اور تمام ارکان کا شکریہ ادا کیا. وزیرِ اعظم نے تحقیقات کو مکمل کرکے حتمی رپورٹ جلد پیش کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں تین وفاقی وزرا اور کمیٹی کے سربراہ شاہد خان، ارکان بیرسٹر نبیل اعوان، میجر جنرل (ر) خورشید اترا، اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.






