
(طیب سیف )صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان سے جنوبی پنجاب سے اہم سیاسی شخصیات کے وفود نےملاقات کی جس میں نئے صوبوں کے مطالبے پر آواز اٹھانے اور مسلسل ساتھ دینے پر صدر آئی پی پی عبدالعلیم خان کو خراج تحسین کرتے ہوئے انہیں ملتان کے فوری دورے کی دعوت دی۔
ملاقات میں استحکام پاکستان پارٹی کے سیکرٹری جنرل میاں خالد محمود اور صوبائی صدر رانا نذیر احمد خان نے بھی شرکت کی۔
ملاقات میں صدر استحکام پاکستان پارٹی نے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئے صوبوں کے لئے رابطہ مہم تیز، ہم خیال لوگوں کے پاس جائینگے،بہاولپور اور ملتان کے بعد ہزارہ کا بھی دورہ ہو گا،ان کا کہنا تھا کہ پمز کے سانحے سے سبق ملتا ہے کہ موجودہ سسٹم ہر گز درست نہیں۔
وفد سے گفتگو کرتے ہوئے صدر استحکام پاکستان پارٹی کا کہنا تھا کہ تبدیلی کے لیے جب تک خود کو تیار نہیں کریں گے حالات نہیں بدلیں گے،نئے صوبوں پر ہم آہنگی اور رائے عامہ پہلے ہی ہموار ہو چکی ہے،نئے صوبے نیا نظام کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آ گیا ہے۔
صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نےجلد ملتان اور بہاولپور کا دورہ کرنے کا اعلان کیا،جنوبی پنجاب کےلئے ملتان میں استحکام پاکستان پارٹی کا مرکزی دفتر بنانے اور سیاسی سرگرمیوں کا فیصلہ بھی کیا۔
علیم خان کا مزید کہنا تھا کہ چھوٹے انتظامی یونٹس بنائے بغیر نظام کی خامیاں دور نہیں ہونگی،ماضی میں کئی رہنماؤں نے جنوبی پنجاب صوبے کا صرف نعرہ لگایا، کام کچھ نہیں ہوا،ایمانداری سے ملکی مفاد میں نئے صوبوں کا بیڑہ اٹھایا ہے، نئے صوبوں پر اگر کسی کو کوئی تکلیف ہے تو صرف “چوہدراہٹ” کی ہے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے دیگر شرکا کا کہنا تھا کہ الیکشن سے پہلے نئے صوبوں کی باتیں کرنے والے ساڑھے چار سال ذکر بھی نہیں کرتے، ملاقات کرنے والوں نے صدر آئی پی پی عبدالعلیم خان کو گلگت بلتستان میں حکومت سازی پر مبارکباد دی۔
شرکاء کا مزید کہنا تھا کہ نئے صوبوں کی تشکیل پرصدر آئی پی پی عبدالعلیم خان کے دو ٹوک موقف کے ساتھ ہیں، اگرلوگوں کے مسائل حل کرنے ہیں تو نئے صوبے ہر صورت بنانا ہوں گے ،نئے صوبوں کے حوالے سے استحکام پاکستان پارٹی کی پالیسی سب پر واضح ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ میں بھارتی تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ کے دورے پر خالصتان حامی سکھ مظاہرین کا احتجاج






