
(ویب ڈیسک )آسٹریلیا کے سڈنی ایئرپورٹ پر جولائی میں دو مسافر طیاروں کے قریباً تصادم کے واقعے کے دوران ڈیوٹی پر موجود متعدد ایئر ٹریفک کنٹرولرز میں شدید تھکن کا خطرہ موجود تھا، جس نے ایئرپورٹ پر عملے کی کمی اور فضائی حفاظت سے متعلق نئے سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق 27 جولائی کو پیش آنے والے واقعے میں ایک Qantas ٹربوپراپ طیارہ لینڈنگ کر رہا تھا جبکہ ایک Qantas بوئنگ 737 کو اسی رن وے کو کراس کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ دونوں طیارے قریب آنے کے بعد ممکنہ تصادم سے بال بال بچ گئے۔
یہ واقعہ سڈنی ایئرپورٹ پر تقریباً ایک ماہ کے دوران پیش آنے والے چھ ایسے واقعات میں پہلا تھا، جن میں طیارے خطرناک حد تک ایک دوسرے کے قریب آگئے۔
رائٹرز کو دستیاب اندرونی ریکارڈ کے مطابق واقعے کے وقت ڈیوٹی پر موجود 10 ایئر ٹریفک کنٹرولرز میں سے 5 کو “ہائی فیٹیگ رسک” یعنی شدید تھکن کے بلند خطرے کے درجے میں رکھا گیا تھا۔ ایک کنٹرولر درمیانے جبکہ ایک کم خطرے کے درجے میں تھا۔
یہ بھی پڑھیں:انڈوں سے خطرناک بیماری کا پھیلاؤ، 250 سے زائد کیسز سامنے آگئے
واقعے کے بعد ایک شفٹ مینیجر نے اندرونی گفتگو میں عملے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس صبح پانچ اہلکار شدید تھکن کے خطرے میں تھے اور صورتحال “کافی ناقابلِ یقین” تھی۔
مذکورہ مینیجر کے مطابق دونوں طیارے ٹکرانے سے بال بال بچے، تاہم واقعے کے بعد کنٹرول ٹاور کا عملہ شدید پریشانی میں تھا۔
شفٹ مینیجر نے یہ بھی بتایا کہ واقعے میں براہِ راست شامل تین کنٹرولرز میں سے دو ہائی فیٹیگ رسک جبکہ تیسرا درمیانے درجے کے خطرے میں تھا۔
آسٹریلیا کے فضائی ٹریفک کنٹرول کے ذمہ دار ادارے Airservices Australia نے جاری تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے واقعے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ آسٹریلین ٹرانسپورٹ سیفٹی بیورو سڈنی ایئرپورٹ کے تمام چھ قریباً حادثات کی تحقیقات کر رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا ان کے پیچھے مشترکہ حفاظتی مسائل یا دیگر عوامل موجود تھے۔
رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا میں استعمال ہونے والا تھکن کا نظام کسی کنٹرولر کی حقیقی تھکن کی براہِ راست پیمائش نہیں کرتا بلکہ کام کے بوجھ، ڈیوٹی کے اوقات اور شیڈول سمیت مختلف عوامل کی بنیاد پر تھکن کے خطرے کا اندازہ لگاتا ہے۔
خطرے کی درجہ بندی کے مطابق اضافی وقفے، ٹریفک کی حد یا ضرورت پڑنے پر ڈیوٹی جلد ختم کرنے جیسے حفاظتی اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔
تاہم آسٹریلوی ایئر ٹریفک کنٹرولرز کی نمائندہ یونین کے مطابق حالیہ برسوں میں عملے کی کمی کے باعث زیادہ شفٹیں، اوور ٹائم اور کم آرام کی وجہ سے تھکن کا خطرہ بڑھا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سڈنی میں عملے کی قلیل مدتی غیرحاضری غیر معمولی حد تک بڑھ گئی تھی، جس سے تمام آپریشنل شفٹیں مکمل کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔
ایئر ٹریفک کنٹرولرز کے مطابق عملے کی کمی کے باعث بعض اوقات اضافی ڈیوٹی کرنا مشکل صورتحال کا حصہ بن چکا ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی ایئر ٹریفک کنٹرولرز کی کمی فضائی صنعت کے لیے ایک بڑا حفاظتی چیلنج بنتی جارہی ہے۔
آسٹریلیا کے موجودہ معاہدے کے تحت کنٹرولرز اضافی اور ہنگامی ڈیوٹی سمیت مسلسل 10 شفٹوں تک کام کرسکتے ہیں، جبکہ مسلسل ڈیوٹی کے دوران 80 گھنٹے کی حد مقرر ہے۔ یونین حکام کے مطابق بعض آسٹریلوی کنٹرولرز کے لیے 10 دن مسلسل کام کرنے کے بعد صرف ایک دن کی چھٹی ملنا بھی غیر معمولی نہیں۔
طیارے ٹکرانے سے بچ گئے!






