(ویب ڈیسک) دنیا کے پر امید لوگ نیپال میں جس معجزے کا انتظار کر رہے تھے آج جمعہ کے روز وہ معجزہ ہو گیا۔ تباہ کن فلیش فلڈ کے 9 دن بعد لاپتہ افراد میں سے دو کو زندہ نکال لیا گیا۔ یہ دونوں ایک ہائیڈرو پروجیکٹ کی زیر تعمیر سرنگ کے اندر پھنسے ہوئے تھے۔
’جمعے کے روز دو افراد کا زندہ مل جانا معجزوں پر معجزے جیسا تھا، کیونکہ انھیں زیر زمین سرنگ میں اتنے دن تک زندہ رہنے میں کئی مشکلات کا سامنا تھا۔
نیپال ہائیڈرو پاوور کی ایک بند سرنگ میں امدادی سرگرمیوں میں شامل ایک ماہر آرنلڈ ڈکس نے اس ریسکیو آپریشن کے بارے میں میڈیا کو بتایا کہ وہ زندہ بچ جانے والوں تک پہنچنے میں کیسے کامیاب ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلی رکاوٹ سرنگ کے داخلی راستے کا پتہ لگانا تھی، ایسے علاقے میں جو سیلاب کے باعث تقریباً ناقابل شناخت ہو چکا تھا۔ اس سیلاب میں اب تک 1300 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ریسکیو ورکر آرنلڈ ڈکس نیپال کے ہائیڈرو پاور حکام کو اس بات پر رہنمائی دے رہے ہیں کہ ’تریشولی 3A‘ ہائیڈرو پاور سٹیشن تک پہنچنے کے لیے بند سرنگ میں پھنسے لوگوں کو بچانے کے لئے کھدائی کیسے کی جائے۔
یہ ان 6 ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹس میں سے ایک ہےجو گذشتہ ہفتے نیپال اور تبت کی سرحد پر آنے والے اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب سے متاثر ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیئے: نیپال میں 4200 لاپتہ لوگوں کے لواحقین میں مایوسی، 900 کے زندہ ہونے کی امید برقرار
ریسکیو ورکر آرنلڈ ڈکس نے کہا کہ ’میں نے کبھی ایسی امدادی کارروائی نہیں دیکھی جہاں آپ کو ایسی سرنگ کا داخلی راستہ تلاش کرنا پڑے جو پہلے پہاڑی پر تھا لیکن اب زمین کے نیچے دب چکا ہو۔ آپ برفانی تودے کی شدت کا اندازہ لگا سکتے ہیں، اس نے داخلی راستے کو مکمل طور پر دفن کر دیا تھا۔‘
ڈکس جو انٹرنیشنل ٹنلنگ اینڈ انڈر گراؤنڈ سپیس ایسوسی ایشن کے صدر ہیں نے بتایا کہ انجینیئرنگ تکنیک، پرانے نقشوں، آفت کے بعد سیٹلائٹ تصاویر، ہیلی کاپٹروں سے لی گئی ویڈیو فوٹیج، اور ’پہاڑ کی سطح پر ملنے والی کسی بھی دوسری چیز جیسے بجلی کے کھمبوں‘ کی مدد سے ان کی ٹیم نے داخلی راستے کی ممکنہ جگہ کا تعین کیا اور کھدائی شروع کی۔
وہ داخلی راستہ ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے، لیکن اگلا چیلنج زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کرنا تھا۔
دونوں افراد نو دن زیرِ زمین پھنسے رہنے کے بعد زندہ نکالے گئے ہیں۔
کون سی سرنگ تھی؟
یہ اپر تریشولی تھری اے ہائیڈرو پروجیکٹ Upper Trishuli 3A Hydropower Project کی زیرِ زمین سرنگ تھی، جو نیپال کے رسووا ضلع میں دریائے تریشولی River Trishuli کے علاقے میں واقع ہے۔
26 اگست کو چین-نیپال سرحد کے قریب برف، چٹان اور مٹی کے بڑے تودے کے بعد آنے والے سیلابی ریلے نے اس پورے علاقے کو تباہ کر دیا تھا۔
آج دو کارکنوں سنجے ساہ اور کبیر مہاراجن Sanjay Sah اور Kabir Maharjan کو سرنگ کے تقریباً 170 میٹر اندر سے نکالا گیا۔ ان دونوں کو بحفاظت کٹھمنڈو کے فوجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کیا اس سرنگ میں مزید لوگ موجود ہیں؟
اپر تریشولی پروجیکٹ کی سرنگ میں اب مزید زندہ افراد موجود ہونے کا امکان بہت کم سمجھا جا رہا ہے۔
اس پروجیکٹ میں سیلاب کی تباہی شروع ہونے کے وقت 42 افراد کام کر رہے تھے۔ ریسکیو ٹیم نے آج سرنگ کے تقریباً تمام حصے تلاش کیے، دو زندہ افراد کے علاوہ ایک لاش بھی ملی۔ لیکن دوسرے کسی شخص کی آواز نہیں سنی جا سکی اور کسی زندہ انسان کی موجودگی کی کوئی نشانی نہیں ملی۔ نیپالی فوج اور پولیس کی ٹیموں کا کہنا ہے کہ انہوں نے سرنگ کے انتہائی آخری حصے تک تلاش کی ہے۔
لیکن اس پورے علاقے کے دوسرے hydro projects کی صورت مختلف ہے۔ چھ ہائیڈرو منصوبوں کی سرنگوں میں مجموعی طور پر تقریباً 900 افراد کے پھنسے ہونے کا ابتدائی اندازہ سامنے آیا تھا۔ بعض رپورٹس میں سرنگوں میں پھنسے ہوئے کارکنوں کی کم تعداد بھی دی گئی ہے، کیونکہ سرنگوں میں لاپتہ افراد کی گنتی ابھی غیر یقینی ہے۔
کیا باقی لوگوں کے زندہ ہونے کی امید ہے؟
یہی سب سے اہم سوال ہے کی نو سو کے لگ بھگ ورکرز میں سے کتنوں کو زندہ نکالنا ممکن ہے۔ آج دو زندہ ملنے والے افراد نے امید کو اچانک بہت بڑھا دیا ہے۔ نو دن تک مکمل طور پر بند زیرزمین جگہ میں دو افراد کا زندہ رہنا ثابت کرتا ہے کہ اگر کسی حصے میں ہوا کا راستہ موجود ہو، پانی مکمل طور پر داخل نہ ہوا ہو، کوئی نسبتاً خشک جگہ بنی ہو، اور ملبے نے وینٹی لیشن ventilation یا کسی چھوٹے ائیر پاکٹ air pocket کو مکمل طور پر بند نہ کیا ہو، تو ایسی جگہ پر بند رہنے کے نو دن بعد بھی سروائیول survival ممکن ہے۔

ریسکیو کارکنوں نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن کے دوران تریشولی تھری اے پروجیکٹ کی سرنگ میں پہلے اندر سے آواز بھی سنی گئی تھی، جس کے بعد ریسکیو ٹیم نے زیادہ تیز رفتار جدوجہد کر کے ان دونوں کارکنوں تک رسائی حاصل کی۔
ریسکیو آپریشن میں شامل کارکنوں کا کہنا ہے کہ 26 اگست کے ڈیزاسٹر کے بعد سے پہلی بار یہ ثابت ہو گیا ہے کہیہ مفروضہ غلط ہے کہ کیونکہ “نو دن گزر گئے، لہٰذا سرنگ میں کوئی زندہ نہیں ہو سکتا”۔
اسی لیے نیپالی فوج اور دیگر ٹیمیں دوسرے ہائیڈرو پروجیکٹس hydro projects کی سرنگوں میں تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
نہایت دلچسپ انسانی پہلو
زندہ نکال لئے گئے کارکن سنجے ساہ Sanjay Sah نے بتایا کہ جب سیلاب آیا تو میں دوسروں کو باہر نکالنے میں مصروف رہا، اس دوران میں خود پھنس گیا۔ یعنی ممکن ہے اس کی اپنی جان بچنے کی وجہ بھی یہی ہو کہ وہ آخری وقت تک زیرزمین حصے میں موجود تھے اور پانی کے مکمل بہاؤ سے نسبتاً محفوظ مقام پر رہ گئے۔ جو لوگ سرنگ سے بھاگ کر باہر نکلے تھے، ان کے متعلق اب تک نہیں پتہ کہ ان کا کیا حال ہوا تھا۔
چھ ہائیڈرو پروجیکٹس میں کتنے کتنے لوگ پھنسے ہوئے ہیں؟
آج جمعہ کے روز تازہ ترین معتبر رپورٹوں میں “چھ ہائیڈرو پروجیکٹس” کے لیے ہر منصوبے کی الگ الگ حتمی تعداد دستیاب نہیں ہے۔ ابتدائی اعداد و شمار بدلتے رہے ہیں، کیونکہ کئی مقامات پر یہ بھی واضح نہیں کہ لاپتہ شخص واقعی سرنگ کے اندر ہی تھے یا سرنگ سے باہر نکل چکے تھے اور پاور ہاؤس کے ملبہ میں پھنس گئے یا سیلاب میں بہہ گئے؟
آج 4 ستمبر کی صورتحال کو اس طرح سمجھنا زیادہ درست ہے:

مختلف خبروں کے مطابق تقریباً 500 افراد کے سرنگوں میں پھنسے ہونے کا یقین ہے اور تقریباً 900 ہائیڈرو ورکرز کے لاپتہ ہونے کے اعداد سامنے آ رہے ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ تمام لاپتہ ہائیڈرو پروجیکتس ورکرز مین سے کتنے سرنگوں کے اندر پھنسے ہو سکتے ہیں۔
یہ بات البتہ واضح ہے کہ جو لوگ سرنگوں کے اندر پھنس گئے ان کے زندہ بچ جانے کا امکان بہت زیادہ ہے۔ جو لوگ لاپتہ ہیں، ان کے متعلق عمومی مایوسی ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ ملبہ تل دب کر یا پانی اور گارے میں بہہ کر مر چکے ہوں گے۔
چھیالس کارکنوں کے متعلق امید افزا خبر
لیکن آج کی سب سے اہم خبر رسو وگادھی پروجیکٹ کی ہے
یہاں 46 افراد کے بارے میں نیپال الیکٹریسٹی اتھارٹی کے ایک اہلکار نے بدھ کو کہا تھا کہ انہیں ان تمام لوگوں کے زیر زمین سرنگ میں ایک کمرے جیسی جگہ پر موجود ہونے کا قوی امکان ہے، اور وہاں خوراک اور پانی بھی موجود ہو سکتا ہے۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ آج تریشولی اے تھری سے دو افراد کا نو دن بعد زندہ نکل آنا رسو وگادھی پروجیکٹ Rasuwagadhi کے 46 افراد کے لیے امید کو خاصا بڑھاتا ہے۔ وہاں ریسکیو ٹیم ایک سرنگ میں تقریباً 250 میٹر اندر تک پہنچ چکی تہے ، مگر راستہ بند ملا، اب دوبارہ اندر جانے کی کوشش جاری ہے۔
نیپال میں معجزہ ہو گیا، نو دن سے سرنگ میں پھنسے دو کارکن زندہ سلامت نکل آئےپروجیکٹ کہاں واقع ہے؟
یہ سرنگ جس میں موجود لوگوں کے زندہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے یہ تقریباً نیپال چین سرحد کے قریب ہی ہے، اور چین کی سرحد سے صرف تقریباً 5 کلومیٹر دور ہے۔ اس لیے یہ اصل سیلاب کے قلب flood source کے سب سے قریب بڑے متاثرہ ہائیڈرو سٹیشن سائیٹ ہے۔






