13

پاکستان میں کوئی ٹاپ لیول کرکٹر نہیں اے کیٹیگری زبردستی نہیں دے سکتے :عاقب جاوید

(24 نیوز)پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس اور چیف سلیکٹر عاقب جاوید نے کہا ہے کہ موجودہ کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی کھلاڑی کو محض روایت برقرار رکھنے کے لیے اے کیٹیگری نہیں دی جا سکتی۔

اسپورٹس روم میں گفتگو کرتے ہوئے عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ ایک ایسے مرحلے سے گزری جہاں ٹیم ہوم گراؤنڈ پر بھی کامیابی حاصل کرنا بھول گئی تھی، تاہم ان کے متعارف کردہ فارمولے کی بدولت قومی ٹیم نے چار ٹیسٹ میچز میں کامیابی حاصل کی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ہونے والی مختلف ٹی20 لیگز نے پاکستان کرکٹ کو بھی متاثر کیا ہے، جبکہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں ناکامی قومی کرکٹ کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی۔

عاقب جاوید کے مطابق ایک سال میں قومی ٹیم صرف 5 سے 6 ٹیسٹ، 8 سے 10 ایک روزہ اور 35 سے زائد ٹی20 میچز کھیلتی ہے، جس کے بعد بیشتر کھلاڑی مختلف فرنچائز لیگز میں مزید 40 کے قریب میچز کھیلتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی کرکٹر سال بھر میں تقریباً 90 ٹی20 میچز کھیلے اور فرسٹ کلاس کرکٹ سے دور رہے تو اس کی ریڈ بال صلاحیتوں میں بہتری آنا مشکل ہو جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دو سال قبل پاکستان کرکٹ سے وابستہ ہونے کے بعد کھلاڑیوں کی کیٹیگریز کا جائزہ لیا گیا اور کارکردگی کے معیار کو سامنے رکھتے ہوئے اے کیٹیگری ختم کر دی گئی، کیونکہ موجودہ پرفارمنس کی بنیاد پر کسی کو زبردستی اس درجے میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔

سابق فاسٹ بولر نے مزید کہا کہ آج کل کئی کھلاڑی خود بھی ٹیسٹ کرکٹ کو ترجیح نہیں دیتے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ویسٹ انڈیز، جنوبی افریقا، سری لنکا اور آسٹریلیا سمیت کئی ٹیمیں بھی معیاری فاسٹ بولرز کی قلت جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی علی خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں