اجلاس کے آغاز پر وزیر اعظم شہباز شریف نے کابینہ کے تمام اراکین کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ آپ سب کا شکریہ کہ اتوار کو میری درخواست پر اجلاس میں شریک ہوئے ۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گرد عام شہریوں کو نشانہ بنارہے ہیں، پولیس، افواج پاکستان کے جوانوں، بچوں کو دہشت گرد نشانہ بنارہے ہیں، یہ انتہائی تکلیف دہ واقعات ہیں، افواج پاکستان ان دہشت گردوں کو چُن چُن کر مار رہی ہے ۔
خیبر پختونخوا کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں 2سال سے دہشت گردی ہورہی ہے، صوبے میں دہشت گردی میں ہمارے سیاستدان اور شہری شہید ہورہے ہیں، خیبرپختونخوا کی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف سی ٹی ڈی کو وسائل دینے چاہئیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ800ارب روپے خیبر پختونخوا کو جارہے ہیں ،یہ اس لئے تھا کہ اس سے پولیس اور سی ٹی ڈی کو مضبوط کریں، پولیس اور سی ٹی ڈی کو مضبوط نہیں کیا گیا ۔یہ پیسے کہاں گئے اس بات پر میں نہیں جانا چاہ رہا ۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ صوبے میں مسلسل دہشت گردی کے واقعات ہورہے ہیں اور خیبرپختونخوا حکومت مکمل خاموش ہے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کیساتھ سٹاف لیول کا معاہدہ ہو چکا ہے، اگلی قسط جلد مل جائے گی۔آئی ایم ایف کی ایم ڈی نے ان حالات میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔
لندن میں اسٹاک ایکسچینج کے لوگوں کے علاوہ مختلف وفود سے بھی ملاقاتیں ہوئیں، پاکستان کی سیاسی قیادت اور عسکری قیادت نے دن رات مل کر کام کیا، وہاں سب نے یہی کہا کہ پاکستان نے معاشی استحکام کے لئے اچھے اقدامات کئے ہیں۔
4






