5

قتل کے مقدمہ میں ملزم عمر فاروق کی ضمانت کی درخواست منطور 

(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ میں قتل کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران پولیس کے تفتیشی نظام، “تتمہ بیان” اور “باوثوق ذرائع” کی بنیاد پر کارروائی کے طریقہ کار پر اہم سوالات اٹھائے گئے۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن پنجاب شہزادہ سلطان نے نہ صرف پولیس نظام کی خامیوں کا اعتراف کیا بلکہ یہ بھی تسلیم کیا کہ پولیس اختیارات کا ناجائز استعمال کرتی رہی ہے۔

جسٹس محمد طارق ندیم نے ملزم عمر فاروق کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ عدالت کے حکم پر ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن شہزادہ سلطان اور ڈی پی او منڈی بہاؤالدین کامران عامر خان ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے، جبکہ پراسیکیوشن کی جانب سے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نوید عمر بھٹی اور شیخ محمد آصف عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر جسٹس محمد طارق ندیم نے ایڈیشنل آئی جی سے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے مقدمے کا ریکارڈ دیکھا ہے؟ اس پر شہزادہ سلطان نے بتایا کہ عدالت کی جانب سے طلب کیے گئے دونوں مقدمات کا جائزہ لیا ہے، تاہم عدالت نے واضح کیا کہ اس وقت منڈی بہاؤالدین کے مقدمے پر بات کی جائے۔عدالت نے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس ضمنی بیان (سپلیمنٹری اسٹیٹمنٹ) کا ذکر کیا جا رہا ہے، وہ فائل میں موجود ہی نہیں، حالانکہ ڈی پی او عدالت کو یقین دلاتے رہے کہ وہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔ جسٹس محمد طارق ندیم نے ریمارکس دیے کہ اگر مقدمہ کسی تحریری درخواست پر درج ہو جائے تو پھر اس کے بعد “سپلیمنٹری اسٹیٹمنٹ” کا قانونی تصور کیا ہے؟ عدالت نے مزید کہا کہ ملزم ایف آئی آر میں نامزد نہیں تھا بلکہ بعد ازاں یہ لکھ دیا گیا کہ مدعی نے کسی مخبر کے کہنے پر اسے نامزد کیا۔اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن شہزادہ سلطان نے اہم اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ “سر، قانون میں تتمہ بیان کا کوئی تصور موجود نہیں۔ تتمہ بیان اور باوثوق ذرائع کی بنیاد پر کارروائی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم سب یہ کام کر رہے ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ “ہم نے اپنی بے ایمانی اور رشوت کو تحفظ دینے کے لیے تتمہ بیان کا تصور خود بنا رکھا ہے، اسی کو استعمال کرکے ناجائز اقدامات کیے جاتے ہیں۔ پولیس اختیارات کا ناجائز استعمال کرتی رہی ہے، جو نہیں ہونا چاہیے۔ پولیس والوں نے کھانے پینے کے لیے یہ پورا سسٹم بنا رکھا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ پولیس میں بہت سی خامیاں ہیں اور ان خامیوں کے ہم سب ذمہ دار ہیں۔”ایڈیشنل آئی جی کے ان غیر معمولی اعترافات پر جسٹس محمد طارق ندیم نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “کوئی تو ایسا افسر ہے جو پولیس کی اپنی غلطیاں تسلیم کر رہا ہے۔”عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ فائل میں تتمہ بیان کے علاوہ سب کچھ موجود ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے جان بوجھ کر غائب کیا گیا۔ اس پر ایڈیشنل آئی جی نے بھی کہا کہ اس میں پولیس اہلکاروں کی بے ایمانی ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ڈیفالٹرز نے اربوں روپے دبا لئے، عوام سے کروڑوں روپے اوور بلنگ، فیسکو کی سنگین بے قاعدگیاں سامنے آ گئیں 
جسٹس محمد طارق ندیم نے ریمارکس دیے کہ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ قتل جیسے سنگین مقدمے میں بھی کسی نامعلوم مخبر کی اطلاع پر کارروائی کی گئی۔ عدالت نے کہا کہ اگر منشیات کا مقدمہ ہوتا تو مخبر کی اطلاع کسی حد تک قابل فہم ہوتی، لیکن قتل کے مقدمے میں چشم دید گواہ خود یہ کہہ رہا ہے کہ اسے مخبر نے ملزم کا نام بتایا، جبکہ اس مبینہ مخبر کا نام پورے ریکارڈ میں کہیں موجود نہیں۔عدالت نے ڈی پی او منڈی بہاؤالدین پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بارہا بتایا گیا کہ فائل میں تتمہ بیان موجود نہیں، مگر وہ اپنے ماتحت افسران کا دفاع کرتے رہے، جس کے بعد ایڈیشنل آئی جی کو طلب کرنا پڑا۔ عدالت نے کہا کہ غلطیاں انسان سے ہوتی ہیں، لیکن انہیں تسلیم بھی کرنا چاہیے۔سماعت کے دوران عدالت نے پولیس مقدمات کے آڈٹ کا بھی ذکر کیا۔ جسٹس محمد طارق ندیم نے کہا کہ عدالت نے پولیس مقدمات کے آڈٹ کا حکم دیا ہے تاکہ ایسے نقائص سامنے آ سکیں۔ اس پر ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ دس سال پرانے مقدمات کا آڈٹ کیا جا رہا ہے۔عدالت نے ایک اور ملزم علی حسن کا معاملہ بھی اٹھایا، جسے تقریباً دس ماہ قبل مقدمے میں شامل کیا گیا تھا، مگر اس عرصے میں اس کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی گرفتاری کے وارنٹ حاصل کیے گئے۔ ایڈیشنل آئی جی نے تسلیم کیا کہ ریکارڈ کے مطابق ایسی کارروائی نہیں ہوئی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ دس ماہ تک کسی افسر نے یہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کی کہ اس مقدمے میں کیا پیش رفت ہوئی، جبکہ ضلعی پولیس سربراہوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ماتحت افسران کی کارکردگی کی نگرانی کریں۔عدالت نے مدعی مقدمہ کے وکیل سے استفسار کیا کہ علی حسن کو مقدمے میں ملوث کرنے کا کوئی قانونی ثبوت پیش کیا جائے، تاہم وکیل عدالت کو مطمئن نہ کر سکے۔ ایڈیشنل آئی جی نے بھی موقف اختیار کیا کہ صرف دوسرے ملزم کے بیان کی بنیاد پر کسی شخص کو ملزم بنانا قانونی طور پر درست نہیں۔
تمام دلائل سننے اور ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے قتل کیس میں ملزم عمر فاروق کی درخواست ضمانت منظور کر لی۔

یہ بھی پڑھیں:   پٹرولیم مصنوعات کا سٹاک کافی ہے،بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے، این سی ایم سی کی ہدایت 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں