4

ٹم سیفرٹ کی 93 رنز کی اننگز نے نیوزی لینڈ کو  بھارت کے ساتھ  ٹی 20 میچ  میں فتح دلوا دی

(ویب ڈیسک)  سیڈن پارک میں ٹم سیفرٹ کی 93 رنز کی اننگز نے نیوزی لینڈ کو  بھارت کے ساتھ   پانچویں ٹی 20 میچ  میں 7 وکٹوں سے فتح دلوا دی۔ بھارتی ٹیم نے سیریز2-3 سے جیت لی۔

آخری ٹی ٹوینٹی میچ میں نیوزی لینڈ کے اوپنر ٹم سیفرٹ بہترین فارم میں نظر آئے اور انہوں نے صرف 50 گیندوں پر 93 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیلی۔

سیفرٹ نے  11 چوکے اور 5 چھکے لگائے تاہم، وہ اپنی پہلی بین الاقوامی ٹی 20 سینچری بنانے سے محروم رہے اور 16 ویں اوور میں نیتیش کمار ریڈی کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

 یہ بھی پڑھیں:  اسرائیل میں نئی حکومت بنائیں گے، حماس کی مذمت لیکن دہشتگرد نہیں کہیں گے، عرب جوائنٹ لسٹ کے لیڈر کا اعلان 

اپنی 18 ویں نصف سینچری بنانے کے باوجود 3 ہندسوں کے ہدف تک نہ پہنچنے پر وہ سیفرٹ مایوس دکھائی دیے۔

گلین فلپس کا عالمی ریکارڈ اور نیوزی لینڈ کی کامیابی
گلین فلپس 65 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے اور انہوں نے نیوزی لینڈ کو 18 اوورز میں 3-195 بنا کر آسانی سے فتح دلا دی۔

فلپس نے 5 میچوں کی سیریز میں مجموعی طور پر 341 رنز بنائے، جو کسی بھی دو طرفہ ٹی 20 سیریز میں کسی بھی بلے باز کے سب سے زیادہ رنز کا نیا عالمی ریکارڈ ہے۔

اس سے قبل یہ ریکارڈ انگلینڈ کے فل سالٹ کے پاس تھا، جنہوں نے 2023 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 331 رنز بنائے تھے۔

اس سے قبل جمعہ کو آکلینڈ میں کھیلے گئے چوتھے میچ میں بھی فلپس نے 107 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی، جس میں نیوزی لینڈ فتح یاب ہوا تھا۔

ایڈم ملن کی بہترین بولنگ اور بھارتی اننگز
اس سے قبل میچ میں ایڈم ملن کی تیز اور مؤثر بولنگ کے سامنے بھارتی بلے باز مشکلات کا شکار رہے اور پوری ٹیم 8-191 رنز ہی بنا سکی۔

ایڈم ملن نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف 19 رنز دے کر 4 اہم وکٹیں حاصل کیں۔  بھارت کی جانب سے اِشان کِشن اور کپتان شریاس ائیر کی تیز رفتار نصف سینچریوں نے ٹیم کے اسکور کو سہارا دیا۔

 مزید پڑھیں: پانڈیا نے مسٹر بیسٹ سے ایک لاکھ جیت کر کتوں اور بچوں کی فلاح پر لگا دیئے 

اوپنرز کے جلد آؤٹ ہونے کے بعد دونوں بلے بازوں نے تیسری وکٹ کے لیے 7.1 اوورز میں 93 رنز کی شراکت داری قائم کی، جس میں کِشن نے 61 اور ائیر نے 50 رنز بنائے۔

میچ کے بعد کپتانوں کے ردعمل
نیوزی لینڈ کے کپتان مچل سینٹنر نے سیریز کو انتہائی سنسنی خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے کچھ میچوں میں جہاں ان سے غلطیاں ہوئیں، اگر وہ وہاں جیت جاتے تو سیریز کا نتیجہ مختلف ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ کرکٹ کے نقطہ نظر سے کھلاڑیوں نے بالخصوص آخری 2 میچوں میں حالات کے مطابق زبردست موافقت کی اور بولرز نے لائن و لینتھ کا بہترین امتزاج پیش کیا۔

دوسری جانب بھارتی کپتان شریاس ائیر نے اعتراف کیا کہ اچھے آغاز کے باوجود درمیانی اوورز میں مسلسل وکٹیں گرنے سے نئے بلے بازوں پر دباؤ آیا۔

انہوں نے کہا کہ وکٹ آسان نہیں تھی لیکن 194 کا ہدف معقول تھا، تاہم ٹیم کو اپنی بولنگ اور فیلڈنگ پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اگرچہ نیوزی لینڈ نے آخری دونوں میچز جیت کر بہترین واپسی کی، لیکن بھارت ابتدائی تینوں میچز جیت کر سیریز پہلے ہی2-3 سے اپنے نام کر چکا تھا۔

اس ٹی 20 سیریز کے اختتام کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان 5 میچوں پر مشتمل ون ڈے سیریز کا آغاز بدھ سے آکلینڈ میں ہوگا، جس کے بعد دو ٹیسٹ میچز بھی کھیلے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں