2

صنفی مساوات کے فروغ کے لیے مستند اعداد و شمار، مؤثر پالیسی سازی اور ادارہ جاتی اشتراک ناگزیر ہے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی

صنفی مساوات کے فروغ کے لیے مستند اعداد و شمار، مؤثر پالیسی سازی اور ادارہ جاتی اشتراک ناگزیر ہے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی

کوئٹہ،
صوبائی مشیر برائے ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار، معاشی خودمختاری اور فیصلہ سازی کے عمل میں مساوی مواقع فراہم کرنا پائیدار سماجی و معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ صنفی مساوات کے فروغ کے لیے محض پالیسیوں اور اعلانات پر اکتفا کرنے کے بجائے مستند اعداد و شمار، شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی سطح پر مؤثر اقدامات کو یقینی بنانا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اے، محکمہ ترقی نسواں حکومت بلوچستان، نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن اور یونیسیف کے اشتراک سے کوئٹہ میں بلوچستان کے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے لیے قومی صنفی مساوات کے اشاریوں کے فریم ورک (National Gender Parity Indicators Framework) پر منعقدہ دو روزہ تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ قومی صنفی مساوات کے اشاریوں کا فریم ورک خواتین اور مردوں کے درمیان مختلف شعبوں میں موجود تفاوت کی نشاندہی، پیش رفت کی پیمائش اور پالیسی سازی کو قابلِ عمل بنانے کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس فریم ورک کے ذریعے تعلیم، صحت، معاشی مواقع، سیاسی شرکت، قیادت اور فیصلہ سازی سمیت مختلف شعبوں میں صنفی مساوات کی صورتحال کا منظم جائزہ لیا جاسکے گا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کو درپیش سماجی، معاشی اور تعلیمی چیلنجز کے پیش نظر قابلِ اعتماد صنفی اعداد و شمار کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ صوبے کے شہری اور دیہی علاقوں، مختلف اضلاع اور سماجی طبقات کے درمیان موجود فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی پالیسیاں تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو زمینی حقائق کی عکاسی کریں اور خواتین کو عملی طور پر ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرسکیں۔ مشیر ترقی نسواں نے کہا کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے لیبر فورس سروے 2020-21 کے مطابق بلوچستان میں 15 سال سے زائد عمر کی آبادی میں خواتین کی لیبر فورس میں شرکت کی شرح تقریباً 8 فیصد جبکہ مردوں کی شرح 43.6 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو خواتین کی معاشی شمولیت کے حوالے سے موجود بڑے فرق کی نشاندہی کرتی ہے۔ اسی طرح بلوچستان کی صنفی مساوات رپورٹ 2024 بھی خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں شرکت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کی معاشی خودمختاری کے لیے ہنرمندی کی تربیت، کاروبار کے مواقع، مالی وسائل تک رسائی، محفوظ کام کے ماحول اور خواتین کے لیے سازگار ادارہ جاتی سہولیات کی فراہمی ضروری ہے۔ حکومت بلوچستان خواتین کی تعلیم، صحت، تحفظ اور معاشی بااختیاری کے لیے اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ صنفی بنیاد پر تشدد کی روک تھام، خواتین کے قانونی حقوق کا تحفظ، وراثت میں حق کی فراہمی اور عوامی و انتظامی اداروں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانا بھی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اس مقصد کے لیے سرکاری محکموں، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مربوط تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے تربیتی ورکشاپ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ محکموں کے افسران اور اسٹیک ہولڈرز کی استعداد کار میں اضافے سے صنفی اعداد و شمار جمع کرنے، ان کا تجزیہ کرنے اور انہیں قومی سطح کے اشاریوں کے مطابق مرتب کرنے میں مدد ملے گی۔ اس عمل سے نہ صرف بلوچستان کی حقیقی صورتحال قومی سطح پر اجاگر ہوگی بلکہ پالیسیوں اور ترقیاتی منصوبوں کی مؤثریت جانچنے اور وسائل کی بہتر تقسیم میں بھی معاونت ملے گی۔ مشیر ترقی نسواں نے یو این ایف پی اے، یونیسیف اور نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ خواتین کی ترقی اور بااختیاری کے لیے تمام متعلقہ اداروں کا مشترکہ کردار وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ ترقی نسواں بلوچستان میں صنفی مساوات کے فروغ، خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انہیں قومی و صوبائی ترقی کے دھارے میں مؤثر طور پر شامل کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں