قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز سے خطاب کریں گے، جمعیت وکلاء فورم پاکستان کے تمام صوبائی، ضلعی اور تحصیل ذمہ داران کو اہم ہدایات جاری
سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ کی صوبائی صدور اور جنرل سیکریٹریز کو ہدایت، تمام بار ایسوسی ایشنز سے رابطے کرکے خطابات کا شیڈول مرتب کیا جائے۔
اسلام آباد: جمعیت وکلاء فورم پاکستان کے مرکزی صدر سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ قائدِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن ملک بھر کی تمام بار ایسوسی ایشنز سے خطاب کریں گے۔ اس سلسلے میں انہوں نے جمعیت وکلاء فورم پاکستان کے تمام صوبائی، ضلعی اور تحصیل سطح کے عہدیداران کو اہم ہدایات جاری کر دی ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے تمام صوبائی صدور اور جنرل سیکریٹریز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اپنے صوبوں میں بار ایسوسی ایشنز کے ساتھ فوری رابطے قائم کریں اور قائدِ جمعیت کے خطابات کے انعقاد کے حوالے سے جامع شیڈول مرتب کریں۔
انہوں نے ضلعی اور تحصیل سطح کے ذمہ داران کو بھی ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں موجود تمام بار ایسوسی ایشنز کی نشاندہی کریں، ان کی انتظامیہ سے رابطے کریں اور پروگراموں کے انعقاد کے لیے ضروری مشاورت مکمل کریں۔
مرکزی صدر نے درج ذیل اہم ہدایات جاری کی ہیں:
تمام صوبائی صدور اور جنرل سیکریٹریز اپنے صوبوں کا جامع شیڈول مرتب کریں۔
ہر ضلع اور تحصیل کی سطح پر موجود بار ایسوسی ایشنز سے رابطے یقینی بنائے جائیں۔
بار ایسوسی ایشنز کے صدور، جنرل سیکریٹریز اور دیگر عہدیداران سے ملاقاتوں کا اہتمام کیا جائے۔
قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کے خطابات کے لیے بار ایسوسی ایشنز کی مشاورت سے تاریخیں اور پروگرام ترتیب دیے جائیں۔
ضلعی اور تحصیل ذمہ داران اپنی رپورٹس متعلقہ صوبائی قیادت کو فراہم کریں۔
تمام صوبائی تنظیمیں باہمی رابطے اور مشاورت کے ذریعے پروگراموں کو منظم بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
مرتب کردہ شیڈول اور تنظیمی تجاویز مرکزی قیادت تک پہنچائی جائیں تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دی جا سکے۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کہا کہ جمعیت وکلاء فورم پاکستان کے تمام ذمہ داران اس سلسلے کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی تنظیمی ذمہ داریاں بروقت مکمل کریں۔ ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز کے ساتھ رابطوں کو مؤثر بنایا جائے تاکہ قائدِ جمعیت کے خطابات کے پروگرام کو مربوط اور منظم انداز میں ترتیب دیا جا سکے۔
انہوں نے تمام صوبائی، ضلعی اور تحصیل ذمہ داران کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر اپنی سرگرمیوں کا آغاز کریں اور اپنے اپنے علاقوں کا شیڈول مرتب کرکے مرکزی قیادت کو آگاہ کریں۔






