
(ویب ڈیسک)پاکستان کی ملیحہ علی نے متعدد انجریز کے باوجود انٹرنیشنل مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن (آئی ایم ایم اے ایف) ورلڈ چیمپیئن شپ میں کانسی کا تمغہ اپنے نام کرلیا، تاہم پاکستان ایم ایم اے فیڈریشن نے سیمی فائنل میں روسی حریف پولینا بالڈینا کے خلاف ان کی متنازع شکست کو چیلنج کردیا ہے۔
جارجیا کے شہر تبلیسی میں ہونے والی چیمپئن شپ کے ویمنز فیدر ویٹ سیمی فائنل میں ملیحہ علی کو سابق عالمی چیمپئن پولینا بالڈینا کے ہاتھوں سپلٹ فیصلے پر شکست ہوئی۔ ججز نے مقابلے کے حق میں 27-30، 28-29 اور 28-29 کے مختلف سکور دیئے۔
ملیحہ علی ٹوٹی ہوئی انگلی، آنکھ پر چوٹ اور جبڑے کی جزوی طور پر اپنی جگہ سے ہٹی ہوئی ہڈی کے باوجود مقابلوں میں شریک ہوئیں۔
پاکستانی فائٹر نے سیمی فائنل تک رسائی کے لیے روس کی 2 مرتبہ یورپی چیمپئن رہنے والی ویرونیکا ڈروزدووا کو سپلٹ فیصلے پر شکست دی، جبکہ میکسیکو کی آندریا گیبریلا گزمین سالازار کے خلاف متفقہ فیصلے سے کامیابی حاصل کی۔
پاکستان ایم ایم اے فیڈریشن نے سیمی فائنل کے فیصلے کے خلاف باضابطہ اپیل دائر کرتے ہوئے ججز سے ہر راؤنڈ کی سکورنگ کی تفصیلات اور مقابلے کا تکنیکی جائزہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
فیڈریشن کے صدر عمر احمد نے ججز کے فیصلوں میں یکسانیت پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال ہونے والی چیمپئن شپ میں بھی پاکستان کو سیمی فائنل میں سپلٹ فیصلے کے ذریعے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ملیحہ علی کی جڑواں بہن منیشہ بھی چیمپئن شپ میں شریک تھیں، تاہم انہیں لائٹ ویٹ کوارٹر فائنل میں پولینڈ کی مارٹینا کاروک کے ہاتھوں سپلٹ فیصلے پر شکست ہوئی۔ منیشہ رواں سال کے آغاز میں انگولا میں ہونے والے آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ کپ میں سونے کا تمغہ جیت چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کھڑکی سے ٹیک لگا کر بیٹھی خاتون ساتویں منزل سے گر کر ہلاک، ویڈیو سامنے آ گئی






