7

خلیج میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز و بحیرۂ احمر پر خدشات  تیل کی قیمتوں میں اضافہ

(ویب ڈیسک)عالمی منڈی میں جمعہ کے روز  خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، جنگ بندی کی ناکامی اور خلیجی خطے سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات ہیں۔

عالمی معیار برینٹ کروڈ کی قیمت میں 70 سینٹ اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ85.28 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 81 سینٹ اضافے کے ساتھ 80 ڈالر فی بیرل ہو گیا،اماراتی مربن خام تیل کی77.73 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈنگ جاری ہے۔

رواں ہفتے دونوں بڑے بین الاقوامی بینچ مارکس کی قیمتوں میں تقریباً 12 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، برینٹ مسلسل تیسرے ہفتے اضافے کی جانب گامزن ہے جبکہ ڈبلیو ٹی آئی بھی دوسرے ہفتے فائدے میں رہنے کا امکان ہے۔

کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر کے مطابق بحیرۂ احمر میں ممکنہ رکاوٹ عالمی تیل کی سپلائی کے خدشات کو مزید بڑھا رہی ہے،ان کا کہنا تھا کہ جغرافیائی سیاسی خطرات کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافی پریمیم برقرار ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ جنگ بندی کے لیے مفاہمتی یادداشت کے بعد پہلی مرتبہ امریکہ نے بدھ کے روز ایک ہی دن میں ایران کے خلاف دو بڑے فضائی حملے کیے، جن میں زیادہ تر جنوبی ساحلی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا،جمعرات کو بھی حملے جاری رہے۔

دوسری جانب قطر کی وزارت دفاع نے بتایا کہ اس کی افواج نے جمعہ کی صبح ایرانی میزائل حملہ ناکام بنا دیا، تاہم وزارت داخلہ کے مطابق دفاعی کارروائی کے دوران شیل کے ٹکڑے لگنے سے ایک بچہ زخمی ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت کا نیا فیصلہ: پٹرول ٹیکس میں کمی، ڈیزل ڈیوٹی میں اضافہ

عالمی توانائی ایجنسی (IEA) کے سربراہ فاتح بیرول نے بھی خبردار کیا ہے کہ تیل کی سلامتی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے،انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ چند ہفتوں میں صورتحال بہتر نہ ہوئی تو تشویش میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی افواج نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے مسلسل چھٹی رات بھی حملوں کا نیا سلسلہ شروع کیا، اس کے جواب میں ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کی قیادت نے اپنے اتحادی حوثی گروپ کو ہدایت دی ہے کہ اگر امریکہ نے ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تو وہ بحیرۂ احمر کے تیل کے راستے کو بند کرنے کے لیے تیار رہے۔

ماہرین کے مطابق اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، آئی جی اینالسٹس کا کہنا ہے کہ اگر ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 70 ڈالر کی درمیانی سطح سے اوپر برقرار رہتا ہے تو یہ 80 ڈالر کے وسط تک جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں