
(شاہین عتیق)بیٹی کے زبانی نکاح کے خلاف ماں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا۔
فیملی عدالت میں کاہنہ کی ایک خاتون بلقیس بی بی نے اپنی بیٹی کے زبانی نکاح کو چیلنج کر دیا۔
لڑکی کی والدہ نے مؤقف اختیارکیا کہ زبانی نکاح کی اہمیت نہیں، لڑکے نے بیٹی کو دھوکا دیا، کوئی نکاح نہیں کیا گیا ،لڑکے کے خلاف کارروائی کی جاے۔
عدالت میں لڑکے کی طرف سے شہباز بھٹی ایڈووکیٹ نے چار گواہ پیش کر دیے اورکہاکہ جس جگہ نکاح ہوا وہاں نکاح رجسٹرار نہیں تھا، گواہوں کی موجودگی میں نکاح ہوا جو عدالت میں حاضر ہے،زبانی نکاح بھی شرعی نکاح ہوتا ہے اگر گواہ موجود ہوں پہلے زبانی نکاح ہوتے تھے تحریری نکاح ایک معاہدہ ہے جس میں حق مہر خرچا اور دیگر شرائط لکھی جاتی ہےتاکہ دونوں فریقین اپنے پاس بطور ثبوت رکھیں۔
یہ بھی پڑھیں:بارشوں اورآندھی سے ہونےوالے نقصانات کی تفصیلات سامنے آگئیں
فیملی عدالت نے دونوں مؤقف سامنے آنے پر وکلا ءکو بحث کے لیے چھبیس جولائی کو طلب کر لیا۔
عدالت نے لڑکی سلمیٰ اور لڑکے پرویز کو بھی عدالت میں بحث کے دوران پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔






