
(24نیوز)جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم کے انتقال سے ایک عہدتمام ہوگیا،ان کی نمازجنازہ آج شام5 بجے نمازعصرکے بعد مسجدمنصورہ میں اداکی جائے گی۔
وہ کچھ عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے، بیماری کے باوجود آخری لمحات تک جماعت اسلامی کی تنظیمی و تحریکی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔
مرنجان مرنج شخصیت کے مالک امیرالعظیم جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل بننے سے قبل بھی جماعت میں مختلف اہم ذمّہ داریاں بخوبی نبھا چکے تھے،وہ سیاسی،سماجی اورصحافتی حلقوں میں اپنی نرم خوئی اور بہترین تعلقات کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔
1958ء میں اسلام پورہ لاہور میں پیدا ہونے والے امیراالعظیم نے اسلامیہ ہائی سکول سنت نگر سے میٹرک،اسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے ایف ایس سی اور اسلامیہ کالج سول لائنز سے بی ایس سی فزکس ڈبل میتھ کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔
سیدابوالاعلٰی مودودی کے افکار اورنظریات سے متاثرہونے کے باعث وہ سکول کے زمانے سے ہی اسلامی جمعیت طلبہ کے ساتھ وابستہ ہوگئے تھے،پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے منتخب صدر اوراسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ بھی رہے،جماعت اسلامی لاہور کے علاوہ جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے بھی امیر رہے،جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کی ذمّہ داریاں بھی طویل عرصہ تک بخوبی سرانجام دیں۔
یہ بھی پڑھیں: سیشن جج مستونگ اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید،ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
امیرالعظیم نے جنرل ضیاء کی آمریت کے دور میں طلبہ یونینز کی بحالی کے لئے نہ صرف لانگ مارچ کیا بلکہ قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں،جب اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے تو ان دنوں پابند سلاسل تھے، وکلاء تحریک میں اہم کردار ادا کیا اور چیف جسٹس بحالی لانگ مارچ کے دوران ان کے ماتھے پر شیل بھی لگا تھا۔
مختلف سیاسی وسماجی شخصیات کی جانب سے امیرالعظیم کے انتقال پرگہرے دکھ اورافسوس کااظہارکیاجارہاہے۔






