
(احمد منصور )بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کسی شخصیت یا جماعت کی جیت یا ہار نہیں، آئین کی بالادستی ہے، عدالتی فورم کا تعین سیاسی مفاد یا خواہش پر نہیں، صرف آئین و قانون کے مطابق ہوگا, انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ملک میں “فورم شاپنگ” کے خاتمے کا مظہر ہے،نیب مقدمات میں دوسری اپیل کا اختیار وفاقی آئینی عدالت (FCC) کو منتقل ہو چکا ہے۔
بیرسٹر عقیل نے کہا کہ نیب کیسز میں ضمانت سمیت تمام ضمنی کارروائیاں اب وفاقی آئینی عدالت کے دائرۂ اختیار میں ہیں،سپریم کورٹ نے دائرۂ اختیار کی آئین کے مطابق درست تشریح کی ہے, انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ عدالتی نظم کے استحکام کے لیے نہایت اہم پیش رفت ہے،مضبوط عدلیہ وہی اختیار استعمال کرتی ہے جو قانون اسے تفویض کرتا ہے، مضبوط عدلیہ وہ ہے جو آئین کی مقرر کردہ حدودِ اختیار کا مکمل احترام کرے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے رولنگ دی ہے کہ نیب کیسز ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں آتے ہیں ، ان کے کیسز آئینی عدالت میں جائیں گے ۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی , نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے, فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی, سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔ نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی ، جس کے مطابق نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا ۔
جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں, اس بینچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔ کیس میں درخواست گزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے تھے۔ درخواست گزار کے وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب مرکزی اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے تھے۔ اٹارنی جنرل کا موقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا , کیس کی سماعت میں نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، جس کے بعد سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ نے بھی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت مسترد ہونے پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے ضمانت منسوخی کیخلاف اپیل پر اعتراض عائد کیا تھا۔ اعتراض میں ضمانت کے لیے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کرنے کا کہا گیا تھا۔
نیب کیسز کے حق اختیار سے متعلق سپریم کورٹ نے اپنی سماعت کے بعد 30 صفحات پر مبنی فیصلہ جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کی تمام فوجداری اپیلیں /زیر التوا درخواستیں آئینی عدالت منتقل کی جائیں, دوران سماعت وکیل کی جانب سے سپریم کورٹ کے ضمانت فیصلہ کا حوالہ بھی دیا۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ اختیار سماعت کا نکتہ اٹھائے بغیر فیصلے کی وجوہات متعلقہ نیب ہی بتا سکتا ہے۔ اعتراض نہ اٹھانے کی کوتاہی کے باوجود قانون ہی اختیار سماعت طے کرتا ہے۔ سپریم کورٹ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں کے خلاف اپیل سن سکتیں ہے۔ نیب کیسز کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہے۔
عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق یہ ممکن نہیں کہ ضمانت سپریم کورٹ/مرکزی اپیل آئینی عدالت سنے۔ فورمز کا تضاد رکھا گیا تو قانون کے برخلاف ہوگا۔ کسی درخواست گزار کی ترجیح یا رضا مندی پر قانونی فورم ایجاد نہیں کیا جا سکتا کہ سائل اپنی مرضی سے فورم شاپنگ کرے۔
ٰیہ بھی پڑھیں :آئل ٹینکرز کنٹریکٹر ایسوسی ایشن کا 72 گھنٹوں کا الٹی میٹم کام کرگیا






