
(عیسیٰ ترین ) حکومت بلوچستان نے وزیر پی ایچ ای سردار عبدالرحمن کھتران کو وزارت سے برطرف کردیا،گورنر نے صوبائی وزیر کو وزارت سے ہٹانے کی منظوری دیدی،گورنر نے صوبائی وزیر عبدالرحمٰن کھیتران کو وزارت سے ڈی نوٹیفائی کرنے کی سمری منظور کر لی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان نے دو روز قبل آئین کے آرٹیکل 132 کی ذیلی شق 3 کے تحت سردار عبدالرحمان کھیتران کی برطرفی کی سمری منظوری کے لیے گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل کو ارسال کی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی اور سردار عبدالرحمان کھیتران کے درمیان پچھلے کچھ عرصے سے مختلف سیاسی اور انتظامی معاملات پر اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے۔
سردار عبدالرحمان کھیتران نے نئے اضلاع اور ڈویژنوں کے قیام سے متعلق فیصلوں خصوصاً ویسٹ ڈیرہ بگٹی، کوہلو اور بارکھان کے اضلاع پر مشتمل نئے تشکیل دیے گئے،کوہ سلیمان ڈویژن کے نام پر اعتراض اٹھایا تھا۔
یاد رہے کہ وزیراعلیٰ نے چند ماہ قبل ڈیرہ بگٹی کو تقسیم کر کے اپنے آبائی علاقے بیکڑ کو ویسٹ ڈیرہ بگٹی کے نام سے نئے ضلع کا درجہ دیا تھا۔
سردار عبدالرحمان کھیتران نے اپنے آبائی ضلع بارکھان کے بعض علاقوں کو ویسٹ ڈیرہ بگٹی میں شامل کیے جانے کی بھی مخالفت کی تھی۔
سردار عبدالرحمان کھیتران بلوچستان کی سیاست میں ایک متنازع لیکن بااثر شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ وہ مختلف ادوار میں تعلیم، محکمہ مواصلات سمیت جیسی اہم وزارتوں پر فائز رہے،عبدالرحمان کھیتران کا تعلق ضلع بارکھان سے ہے اور وہ کھیتران قبیلے کے سربراہ ہیں۔
وہ 1997 میں پہلی بار رکن بلوچستان اسمبلی منتخب ہوئے اور صوبائی وزیر تعلیم رہے،پرویز مشرف دور میں انہیں کرپشن کے الزام میں گرفتار اور پھر نااہل قرار دیا گیا جس پر وہ 2002 کے انتخابات نہ لڑ سکے اور ان کی جگہ ان کی اہلیہ نسرین کھیتران رکن اسمبلی منتخب ہوئیں،وہ مسلم لیگ (ق) لیگ کا حصہ بھی رہے۔
بعد ازاں، 2013 میں جمعیت علما اسلام(ف) اور 2018 میں بلوچستان عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر اسمبلی میں پہنچے، 2024 کے انتخابات میں وہ مسلم لیگ (ن) لیگ کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے رکن بنے۔
فروری 2023 میں عبدالرحمان کھیتران پر بارکھان میں مبینہ نجی جیل چلانے اور تین افراد کے قتل کا الزام سامنے آیا تھا جس کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا تاہم بعد میں عدالت نے مقدمات میں انہیں بری کر دیا۔
اس سے قبل 2014 میں بھی ان پر نجی جیل چلانے کے الزامات لگے تھے جس میں وہ تقریبا پانچ سال قید میں رہے اور 2018 میں بری ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں : عمران خان سے ملاقات کا دن، فہرست جیل حکام کو ارسال






