2

وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام کا این ڈی ایم اے کا دورہسیلاب کی صورتحال پر بریفنگ

(24نیوز)وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا دورہ کیا، جہاں مون سون بارشوں، ممکنہ سیلابی صورتحال اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
این ڈی ایم اے حکام نے بتایا کہ مون سون کے لیے مؤثر پیشگی اقدامات یقینی بنائے گئے ہیں، جبکہ رواں سیزن میں غیر معمولی بارشوں کا امکان ہے، شمالی اور مشرقی پاکستان کے علاقے مون سون سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو 2022 اور 2025 میں تباہ کن سیلابوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ اور اربن فلڈنگ کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے مون سون سے قبل ہی حفاظتی اقدامات شروع کر دیے تھے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی رسپانس کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو وزیراعظم کی ہدایت پر روزانہ کی بنیاد پر اجلاس کر رہی ہے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے پانچ ممالک میں شامل ہے،  گزشتہ برس بروقت ریسکیو اور ریلیف اقدامات کے باعث نقصانات میں کمی لائی گئی، جبکہ سیلاب اور بڑھتی حدت کے اثرات سے بچاؤ کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:عوام کے لیے خوشخبری! اگست میں چھٹیوں کا تحفہ

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ زرعی شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے اور آبی ذخائر میں اضافے کے لیے تیزی سے اقدامات کیے جا رہے ہیں، انہوں نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامی اقدامات مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ضلعی اداروں کو مزید بااختیار بنانا ضروری ہے، موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سب سے زیادہ زرعی شعبے پر مرتب ہو رہے ہیں، جبکہ فصلوں کی کاشت کے جدید طریقہ کار پر تحقیق جاری ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے اور پاکستان اس حوالے سے اپنا مؤقف عالمی سطح پر پیش کر رہا ہے، پہاڑی، میدانی اور شہری علاقوں کے لیے الگ الگ حکمت عملی تیار کی گئی ہے، جبکہ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ناگزیر ہے۔

چیئرمین واپڈا معین وٹو نے کہا کہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ دیامر بھاشا ڈیم جیسے منصوبے اس مقصد میں مددگار ثابت ہوں گے، انہوں نے آبی منصوبوں کی بروقت تکمیل پر زور دیا۔

مزید پڑھیں:غیر قانونی بھرتیاں کیس: پرویز الٰہی کی ضمانت منسوخی کیلئے پنجاب حکومت کی درخواست مسترد

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پورا حکومتی نظام مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کام کر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ “ہول آف گورنمنٹ اپروچ” کے ذریعے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کیا گیا ہے تاکہ موسمیاتی خطرات کا بروقت اور مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ فلیش فلڈز اور دیگر قدرتی آفات کے خدشات کے پیش نظر پیشگی منصوبہ بندی اور بروقت اقدامات ناگزیر ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی ادارے مشترکہ لائحہ عمل پر عمل پیرا ہیں اور مربوط حکمتِ عملی کے ذریعے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور نقصانات میں کمی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ 2025 کے سیلاب میں 2022 کے مقابلے میں انسانی جانوں کا نقصان نمایاں طور پر کم رہا، جس کا سہرا بروقت تیاری، بہتر رابطہ کاری اور مؤثر اقدامات کو جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمتِ عملی اختیار کی، جبکہ متاثرہ علاقوں میں فوری امداد اور بحالی کے اقدامات کو ترجیح دی گئی۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی آبادی پاکستان کو درپیش بڑے چیلنجز ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے حکومت جامع اصلاحاتی پروگرام پر عمل پیرا ہے،انہوں نے بتایا کہ تقریباً 2 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت موسمیاتی تبدیلی اور آبادی سے متعلق اہم اقدامات پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:کوئٹہ : فائرنگ سے سینئر باکسنگ کھلاڑی احمد یارقتل

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات کیے گئے، جبکہ وفاقی کابینہ، صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں نے مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کام کیا۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے تمام متعلقہ اداروں اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ارلی وارننگ سسٹم کو مزید مؤثر بنایا، جس کے ذریعے عوام کو ممکنہ خطرات سے بروقت آگاہ کیا گیا اور اس سال جانی و مالی نقصان میں نمایاں کمی آئی۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ این ڈی ایم اے کا نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر عالمی معیار کے مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جبکہ الرٹ ایپ، جدید ٹیکنالوجی اور ارلی وارننگ سسٹم کے ذریعے شہریوں کو فوری اطلاعات فراہم کی جا رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ کلاؤڈ برسٹ، سیلابی ریلوں اور شدید بارشوں کے خدشات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے وفاق، صوبوں، متعلقہ اداروں اور عوام کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا، وزیراعظم کی ہدایات پر عوامی آگاہی مہم مزید مؤثر بنائی جا رہی ہے، جبکہ روایتی اور سوشل میڈیا کے ذریعے شہریوں تک بروقت معلومات کی فراہمی کا سلسلہ بھی جاری رکھا جائے گا، انہوں نے موسمیاتی خطرات سے متعلق آگاہی پھیلانے میں پاکستانی میڈیا کے کردار کو بھی سراہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں