
(ویب ڈیسک)پنجاب کے تاریخی شہر ملتان میں خوفناک حادثے کے نتیجے میں شدید زخمی ہونے والے کراچی کے معروف عالم دین مولانا محمد اکرم سعیدی جاں بحق ہوگئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق معروف عالم دین مولانا محمد اکرم سعیدی کے ساتھ پیش آنے والے حادثے کی اطلاع جمعہ کے روز سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی، حادثے کی پوسٹ کے ساتھ سامنے آنے والی تصویر میں مولانا اکرم سعیدی کو انتہائی زخمی حالت میں چارپائی پر لیٹے ہوئے دکھایا گیا،مولانا محمد اکرم سعیدی گلشن حدید کی معروف جامع مسجد اور دارالعلوم دیارِ حبیب میں امام اور خطیب تھے۔
مولانا محمد اکرم سعیدی کے انتقال کی خبر سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی، گلشن حدید سمیت کراچی اور ملتان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا صارفین مولانا اکرم سعیدی کے انتقال کی خبر پر افسوس کا اظہار اور معروف عالم دین کے اہل خانہ سے تعزیت کر رہے ہیں،سوشل میڈیا پر مولانا محمد اکرم سعیدی کی خطابت اور نعت گوئی کی ویڈیوز بھی شیئر کی جارہی ہیں۔
بطور امام اور خطیب دہائیوں پر محیط خدمات سرانجام دینے والے ممتاز عالم دین مولانا محمد اکرم سعیدی کا انتقال ملتان میں ہوا جس پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے گلشن حدید سمیت کراچی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے علمائے دین نے ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا، مولانا محمد اکرم سعیدی کی نماز جنازہ میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔
معروف عالم دین مولانا محمد اکرم سعیدی سے فیض حاصل کرنے والے طلبہ اور نمازی حضرات بھی ان کے انتقال پر غمزدہ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ مولانا محمد اکرم سعیدی کا انتقال کسی ایک شخصیت کا دارفانی سے کوچ کرجانا ہی نہیں بلکہ ایک ایسے عہد کے اختتام کا اعلان ہے جس کے دوران قرآن و سنت کی تعلیم، نعت خوانی اور حدیث کی تشریح کا فیض جاری و ساری رہا، ان کے انتقال سے پیدا ہونے والے خلا کو دہائیوں تک پر نہیں کیاجاسکے گا۔
یہ بھی پڑھیں:خوفناک واردات! ڈاکو 150 تولہ سونا،لاکھوں روپے لے اڑے
سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی متعدد ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مولانا محمد اکرم سعیدی نے ہمیشہ اپنے پیروکاروں، طلبہ اور خطاب سننے کیلئے آنے والے نمازیوں کو عبادت، ذکر اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کا درس دیا، وہ مختلف مزارات اور مذہبی اجتماعات میں مسلسل حاضر ہوتے رہے جن میں لاہور، ملتان اور کراچی کے اجتماعات شامل ہیں۔
اپنی ایک ویڈیو میں مولانا محمد اکرم سعیدی کا کہنا ہے کہ میں سفر اور مسلسل مصروفیات کے باوجود دینی محفلوں میں شرکت کو ترجیح دیتا ہوں، خدمت خلق کو بہت اہمیت دی جانی چاہئے، تکبر، غرور، غصہ اور غفلت انسان کو نقصان پہنچاتے ہیں، اس لیے ان سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے، انہوں نے ہمیشہ درس دیا کہ لوگ آپس کے اختلافات ختم کرکے ایک دوسرے کو دل سے معاف کردیں۔






