4

پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک نے اسرائیل کی جانب سے غزہ منصوبے کو مسترد کرنے کی مخالفت کردی

(انور عباس )پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک نے اسرائیل کی جانب سے غزہ منصوبے کو مسترد کرنے کے عمل کی مخالفت کر دی ۔

ترجمان دفتر خارجہ  کے مطابق پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک نے غزہ منصوبے اور فلسطینی ریاست سے متعلق مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا ہے ، پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مشترکہ موقف اپناتے ہوئے اسرائیلی اقدام کی مخالفت کی۔

اعلامیہ کے مطابق اسرائیل کا مؤقف غزہ جامع منصوبے پر براہِ راست حملہ اور امن کوششوں کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے، اسرائیل غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں امن کی راہ روکنے کا ذمہ دار ہے،غزہ روڈ میپ کو فلسطینی دھڑوں نے قبول کیا ہے۔

 مشترکہ اعلامیہ میں زور دیا گیا کہ روڈ میپ میں اسرائیلی افواج کا انخلا، عالمی استحکامی فورس کی تعیناتی اور غزہ کی تعمیر نو پر عملدرآمد کروایا جائے،اسرائیل کی روڈ میپ مسترد کرنے سے جامع منصوبے پر عملدرآمد خطرے میں پڑ گیا،امریکہ اسرائیل سے جامع منصوبے اور روڈ میپ پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائے۔

اسرائیل کے مسلسل انکار اور رکاوٹوں کے تمام نتائج کی براہِ راست ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوگی،غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کے لیے جامع منصوبے پر فوری اور مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے۔

اعلامیہ میں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا گیا اور فلسطینی ریاست کے حق کو یکطرفہ اقدامات کے ذریعے ختم کرنے کی ہر کوشش مسترد کی گئی۔

اعلامیہ میں بتایا گیا کہ پائیدار امن صرف دو ریاستی حل کے ذریعے ممکن ہے،1967 کی سرحدوں پر آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے، مشرقی یروشلم فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہونا چاہیے،فلسطینی ریاست سے انکار خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے امکانات کو نقصان پہنچاتا ہے۔

اعلامیہ میں بورڈ آف پیس کا کردار جاری رکھنے اور روڈ میپ پر عملدرآمد کے لیے کوششیں تیز کرنے پر زور دیا گیا  اور کہا گیا کہ بورڈ آف پیس امریکہ کی فعال حمایت سے جامع منصوبے کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے۔

یہ بھی پڑھیں :محکمہ سکول ایجوکیشن کا گھوسٹ ملازمین کے خلاف بڑا فیصلہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں